فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

کیا کم آمدنی والا شخص بیٹی کی شادی کے لیے زکوٰۃ لے سکتا ہے؟

فتویٰ نمبر 319202610260 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

کیا کم آمدنی والا شخص بیٹی کی شادی کے لیے زکوٰۃ لے سکتا ہے؟

سوال
سائل ہاکری کرتا ہے ، یومیہ ۴۰۰ روپیہ تک اوسطاً کما لیتا ہوں۔ بندہ کی کفالت میں ایک بیوی، چار بیٹیاں ہیں۔ کوئی بیٹا نہیں ہے۔ گھر کرایہ کا ہے۔ پاس کوئی سونا ،چاندی ، نقدی جمع شدہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اب بیٹی کی شادی کرنی ہے۔ آیا میں زکوۃ لے سکتا ہوں؟
جواب
زکوۃ و عشر وغیرہ اس شخص کیلئے لینا جائز ہے جو نصاب(یعنی کم از کم ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کے بقدر رقم  یا اتنی ہی مالیت کی ضرورت سے زائد اشیاء   کا مالک نہ ہو۔ لہذا سائل کے تحقیق ِ حال سے یہی بات معلوم ہوجائے کہ یہ نصاب کا مالک نہیں ہے تو اس کو زکوۃ و عشر وغیرہ دینا شرعاً درست ہیں۔ پھر یہ اس رقم کو اپنی ضروریات میں خرچ کرے یا بیٹی کے جہیز کا سامان خریدے، بہرصورت شرعاً درست ہے۔ لما في الدر المختار:  مصرف الزكاة والعشر۔۔۔ (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة (الدرمع الرد، كتاب الزكوة، 2/ 339 ط: دارالفكر) واضح رہے کہ استحقاق کا مدار فقر پر ہے ، بیٹی کی شادی کی ضرورت پر نہیں ہے۔   فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: زکات