فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

لاولد مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم: شوہر اور بہن کا شرعی حصہ

فتویٰ نمبر 319202610257 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

لاولد مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم: شوہر اور بہن کا شرعی حصہ

سوال
ایک عورت فوت ہوگئی ہے، جس کی اولاد کوئی نہیں ہے۔ ورثاء میں شوہرایک بہن ہےزندہ ہیں۔ جبکہ ایک بہن پہلے فوت ہوگئی، اس کے ورثاء میں ۴ بیٹے اور ۲ بیٹیاں ہیں۔ ایک بھائی بھی پہلے فوت ہوگیا، جس کے ورثاء میں ۲ بیٹیاں ہیں۔مرحومہ کے والدین اس کی زندگی میں انتقال کرگئے تھے۔ مرحومہ کے والد اپنے والد کے اکلوتے بیٹے تھے۔رحمت اللہ کے بہن بھائی ہندوستان میں ہی رہ گئے تھے، ان کے ساتھ نہ کوئی رابطہ ہے اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی معلومات ہیں۔ ہر ایک شرعی حصہ بتادیں۔
جواب
مسئلہ2  میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  شوہر۔ بہن، فوت شدہ بہن بھائیوں کی اولاد  1۔ 1۔محروم  بر تقدیر صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ مرحومہ کا کل ترکہ دو حصے ہو کرایک حصہ شوہر اور ایک حصہ بہن  کو ملے گا۔ مرحومہ کی زندگی میں فوت شدہ بہن بھائی کی اولاد مرحومہ کے ترکہ سے شرعاً محروم رہیں گے۔ لما في رد المحتار:  (قوله إنما يكون بعد الموت) لأن كونهم ورثة لا يتحقق إلا بعد موت المورث  (الرد مع الدر، کتاب الفرائض، 6 / 687 ط: دارالفكر)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض