فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

بہنوں کو وراثت سے محروم کرنا اور بعد میں حصہ دینا: تین بھائی اور تین بہنوں میں شرعی تقسیم

فتویٰ نمبر 319202610256 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

بہنوں کو وراثت سے محروم کرنا اور بعد میں حصہ دینا: تین بھائی اور تین بہنوں میں شرعی تقسیم

سوال
ہمارے والد کے ترکہ میں پونے چار مرلےکا ایک مکان تھا ، جس کو تین بھائیوں نے آپس میں تقسیم کرلیا، اور بہنوں کو کچھ حصہ نہیں دیا۔۔۔ اب ایک بھائی کہتا ہے کہ مجھے جو سوا مرلہ ملے ہیں، اس میں جو آپ کا حصہ بنتا ہے، وہ میں آپ بہنوں کو دینا چاہتا ہوں۔۔۔ آیا اب ہر بہن کا حصہ کتنا بنے گا، جبکہ ہم تین بھائی اور تین بہنیں ہیں۔والدہ کا انتقال بھی ہوچکا ہے اور ان کے ورثاء بھی ہم چھ ہی ہیں۔ جزاكم الله خيرا نوٹ:مذکورہ مکان کی قیمت 22،50،000 روپے طے ہوگئی ہے ۔
جواب
واضح رہے کہ صرف بھائیوں کا جائیداد پر قبضہ کرکے باہم تقسیم کرلینااور بہنوں کو ان کا شرعی حصہ نہ دینے والے کے بارے میں بڑی سخت وعید آئی ہے، جناب نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ جو شخص کسی وارث کا حصہ کاٹے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا جنت کا حصہ کاٹ دے گا۔ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» (مشكاة المصابيح، کتاب الفرائض، الفصل الثالث)  اور اگر بہنوں کو ان کا شرعی حصہ نہیں دیں گے تو قیامت کے دن ساتوں زمین کا طوق گلے میں ڈالا جائے گا۔  عن سعيد بن زيد، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»  (صحيح مسلم، كتاب المساقاة، باب تحريم الظلم وغصب الأرض، 3/ 1231 ط: دار إحياء التراث العربي)  لہٰذا بھائیوں کو چاہیے کہ اگر وہ آخرت کی پکڑ سے بچنا چاہتے ہیں تو بہنوں کو ان کا شرعی حصہ دے دیں۔  سائلہ کے والد کی شرعی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل ترکہ کے 9(نو) حصے کرکے ہر لڑکے کو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک حصہ ملے گا، مثلاً چھ لاکھ فی مرلہ کے حساب سے پونے چار مرلے کے می کل قیمت22،50،000روپے بنتی ہے، جس میں سے ہر بیٹے کو پانچ لاکھ روپے اور ہر بیٹی کو اڑھائی لاکھ روپے ملیں گے۔  اس حساب سے ہر بھائی کے پاس ساڑھے سات لاکھ میں سے پانچ لاکھ ان کا شرعی حصہ ہے اور بقیہ اڑھائی لاکھ روپے بہنوں کا حق ہے،لہٰذا ہر بھائی کے ذمہ شرعاً لازم ہے کہ وہ ہر بہن کو 83,333روپے ادا کرے ، ورنہ آخرت میں سخت جوابدہی ہوگی۔  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض