فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

متوفی کی وہ بیوہ جس سے متوفی کی کوئی اولاد نہ ہو کا حصہ: چوتھائی یا آٹھواں؟

فتویٰ نمبر 319202610255 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

متوفی کی وہ بیوہ جس سے متوفی کی کوئی اولاد نہ ہو کا حصہ: چوتھائی یا آٹھواں؟

سوال
ایک شخص کا انتقال ہوچکا ہے، جس کی پہلی بیوی ( جو پہلے سے فوت شدہ ہے )اس کے بطن سے شخص مذکور کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا زندہ ہیں۔ ،دوسری بیوہ خود زندہ ہے ، اس کے بطن متوفی کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ ہر ایک وارث کا شرعی حصہ بتا دیں۔ م 2۔ مذکورہ بیوہ جس سے متوفی کی کوئی اولاد نہیں ہے وہ کہتی ہے کہ مجھے چوتھا حصہ ملے گا؛ کیونکہ قرآن میں اسی طرح ہے۔۔۔ آیا ان کی یہ بات درست ہے ؟
جواب
مسئلہ8/32 مضروب4 المعروف خان لودھی (متوفی) میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  بیوہ۔ بیٹا ۔بیٹی ۔بیٹی 1۔ 7 4 ۔14۔ 7۔ 7 برتقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ متوفی  کا کل ترکہ32حصے ہو کر حسبِ تفصیل بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ باقی موجودہ بیوہ  کو شاید اس سے شبہہ ہوا ہے کہ قرآن کریم میں ہے کہ جس کی اولاد نہ ہوتو اس کی بیوہ کو چوتھا حصہ ملتا ہے تو سو اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب شوہر مرحوم کی اولاد نہ ہوتو اس کی بیوہ کو چوتھا حصہ ملتا ہے، جبکہ صورتِ مسئولہ میں تومتوفی  کی اولاد ہے، اگرچہ موصوفہ کے بطن سے نہیں ہے۔لہٰذا موصوفہ کو آٹھواں حصہ ہی ملے گا۔جیساکہ آیت قرآنی میں ہے: {وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ} [النساء: 12] ترجمہ"اور ان بیویوں کو چوتھائی ملے گا اس ترکہ کا جس کو تم(مرد) چھوڑ جاؤ اگر تمہاری(مرد) کی کچھ اولاد نہ ہو، اور اگر تمہاری(مرد) کی کچھ اولاد ہو تو ان کو تمہارے ترکہ سے اٹھواں حصہ ملے گاوصیت نکالنے کے بعد تم اس کی وصیت کر جاؤ یا دین(قرض نکالنے) کے بعد"(بیان القرآن)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض