شادی بیاہ میں “نیوتہ” کی شرعی حیثیت: تحفہ یا سود کا معاملہ؟
سوال
شادی بیاہ کے موقع پر لین دین کیا جاتا ہے، جسے بعض "نیوتہ" کہتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اس کا لینا دینا شرعاً کیسا ہے؟
جواب
واضح رہےکہ کوئی شخص شادی بیاہ کے موقع پرصاحبِ تقریب کوخوش دلی سے نقدرقم یاکوئی چیز بطورِ تحفہ دے جس میں ریا،نام ونموداورواپس لینے کی نیت نہ ہوتوایساتحفہ دیناجائزہے اوریہ سود میں داخل نہیں ہے، البتہ اس سے بچنا اولیٰ ہے؛کیونکہ بعض علاقوں میں شادی بیاہ کے موقع پرنقد رقم اور دیگرتحفے تحائف قرض کے طورپردیےجاتے ہیں، جس کوعرف میں ’نیوتہ‘کہاجاتاہے،جس کامطلب یہ ہے کہ ایک شخص اس نیت سے صاحبِ تقریب کورقم دیتاہے کہ کل جب میرے ہاں ایسی تقریب ہوگی تو یہ شخص مجھے اس سے زیادہ رقم دے گا،اس نیت سے رقم دینااور پھر اس سے زائد رقم وصول کرنا کو’ربو ٰ‘ میں داخل ہوکر ناجائز ہے اور قرآن ِ کریم نے اس کو’ربو ٰ‘(سود) سے تعبیر کرکے اس کی مزيد قباحت اوربرائی کی طرف اشارہ کردیاکہ یہ بھی سود جیسی صورت ہے،لہٰذا اس سے اجتناب کرنالازم ہے۔مزید تفصیل کے لیے’تفسیر معارف القرآن‘ میں ’سورۃ الروم ‘ کی آیت نمبر(۳۹)کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
ولقوله تعالیٰ:
}وَما آتَيْتُمْ مِنْ رِباً لِيَرْبُوَا فِي أَمْوالِ النَّاسِ فَلا يَرْبُوا عِنْدَ اللَّهِ وَما آتَيْتُمْ مِنْ زَكاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ {( الروم: 39 )
و قال أيضا:
} وَلا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ {( المدثر: 6 )
ولما فی رد المحتار:
وفي الفتاوى الخيرية:سئل فيمايرسله الشخص إلى غيره في الأعراس ونحوها هل يكون حكمه حكم القرض فيلزمه الوفاءبه أم لا؟أجاب:إن كان العرف بأنهم يدفعونه على وجه البدل يلزم الوفاءبه مثليافبمثله وإن قيميافبقيمته،وإن كان العرف خلاف ذلك بأن كانوايدفعونه على وجه الهبة ولاينظرون في ذلك إلى إعطاء البدل فحكمه حكم الهبة في سائر أحكامه فلارجوع فيه بعدالهلاك أوالاستهلاك،والأصل فيه أن المعروف عرفاكالمشروط شرطااهـ.
قلت: والعرف في بلادنا مشترك، نعم في بعض القرى يعدونه قرضا حتى إنهم في كل وليمة يحضرون الخطيب يكتب لهم ما يهدى فإذا جعل المهدي وليمة يراجع المهدى الدفتر فيهدي الأول إلى الثاني مثل ما أهدى إليه (الدر مع الرد، کتاب الهبة ، 5 / 696 ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
حوالہ: نکاح