فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

شادی بیاہ میں “نیوتہ” کی شرعی حیثیت: تحفہ یا سود کا معاملہ؟

فتویٰ نمبر 307202610247 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

شادی بیاہ میں “نیوتہ” کی شرعی حیثیت: تحفہ یا سود کا معاملہ؟

سوال
شادی بیاہ کے موقع پر لین دین کیا جاتا ہے، جسے بعض "نیوتہ" کہتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اس کا لینا دینا شرعاً کیسا ہے؟
جواب
واضح رہےکہ کوئی شخص شادی بیاہ کے موقع پرصاحبِ تقریب کوخوش دلی سے نقدرقم یاکوئی چیز بطورِ تحفہ دے جس میں ریا،نام ونموداورواپس لینے کی نیت نہ ہوتوایساتحفہ دیناجائزہے اوریہ سود میں داخل نہیں ہے، البتہ اس سے بچنا اولیٰ ہے؛کیونکہ بعض علاقوں میں شادی بیاہ کے موقع پرنقد رقم اور دیگرتحفے تحائف قرض کے طورپردیےجاتے ہیں، جس کوعرف میں ’نیوتہ‘کہاجاتاہے،جس کامطلب یہ ہے کہ ایک شخص اس نیت سے صاحبِ تقریب کورقم دیتاہے کہ کل جب میرے ہاں ایسی تقریب ہوگی تو یہ شخص مجھے اس سے زیادہ رقم دے گا،اس نیت سے رقم دینااور پھر اس سے زائد رقم وصول کرنا کو’ربو ٰ‘ میں داخل ہوکر ناجائز ہے اور قرآن ِ کریم نے اس کو’ربو ٰ‘(سود) سے تعبیر کرکے اس کی مزيد قباحت اوربرائی کی طرف اشارہ کردیاکہ یہ بھی سود جیسی صورت ہے،لہٰذا اس سے اجتناب کرنالازم ہے۔مزید تفصیل کے لیے’تفسیر معارف القرآن‘ میں ’سورۃ الروم ‘ کی آیت نمبر(۳۹)کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ ولقوله تعالیٰ:  }وَما آتَيْتُمْ مِنْ رِباً لِيَرْبُوَا فِي أَمْوالِ النَّاسِ فَلا يَرْبُوا عِنْدَ اللَّهِ وَما آتَيْتُمْ مِنْ زَكاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ {( الروم: 39 )  و قال أيضا:  } وَلا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ {( المدثر: 6 )  ولما فی رد المحتار:  وفي الفتاوى الخيرية:سئل فيمايرسله الشخص إلى غيره في الأعراس ونحوها هل يكون حكمه حكم القرض فيلزمه الوفاءبه أم لا؟أجاب:إن كان العرف بأنهم يدفعونه على وجه البدل يلزم الوفاءبه مثليافبمثله وإن قيميافبقيمته،وإن كان العرف خلاف ذلك بأن كانوايدفعونه على وجه الهبة ولاينظرون في ذلك إلى إعطاء البدل فحكمه حكم الهبة في سائر أحكامه فلارجوع فيه بعدالهلاك أوالاستهلاك،والأصل فيه أن المعروف عرفاكالمشروط شرطااهـ.  قلت: والعرف في بلادنا مشترك، نعم في بعض القرى يعدونه قرضا حتى إنهم في كل وليمة يحضرون الخطيب يكتب لهم ما يهدى فإذا جعل المهدي وليمة يراجع المهدى الدفتر فيهدي الأول إلى الثاني مثل ما أهدى إليه (الدر مع الرد، کتاب الهبة ، 5 / 696 ط:سعيد)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: نکاح