فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

تیسری طلاق کال پر دینے کے بعد شوہر کا انکارکرنا

فتویٰ نمبر 307202610245 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

تیسری طلاق کال پر دینے کے بعد شوہر کا انکارکرنا

سوال
میرے والد نے میری والدہ مسماۃ کو پہلے دو طلاقیں دے دیں تھیں، پھر رجوع کرلیا تھا، پھر اب مجھے بذریعہ کال پر گواہ بنا کر تیسری طلاق دے دی۔لیکن اب والد انکار کررہے ہیں۔ اب شرعی حکم کیا ہے؟
جواب
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں اگر والدہ کو بیٹے کی بات پر یقین ہے تو اس کیلئےاب اپنے شوہر خضر حیات خان کے ساتھ آباد ہونا شرعاً جائز نہیں ہے، لیکن چونکہ شوہر اس کا منکر ہے، اس لئے جب تک وہ طلاق کا اقرار نہ کرلے یا بذریعہ خلع یا عدالت علیحدگی کی ڈگری لےلی جائے، تب تک ظاہرہ اختر عدت گزار کر آگے نکاح نہیں کرسکتی۔  لما في تبيين الحقائق:  والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها  (التبيين مع حاشية الشلبي، كتاب الطلاق، باب الطلاق ضربان، 2/ 198 ط: المطبعة الكبرى الأميرية)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق