فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

عورتوں کا مدرسہ میں اعتکاف کرنا

فتویٰ نمبر 307202610244 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

عورتوں کا مدرسہ میں اعتکاف کرنا

سوال
ہمارے محلہ میں ایک چھوٹا سا مدرسہ ہے، وہاں صرف بچیاں پڑھتی ہیں۔ وہاں میں اعتکاف میں بیٹھ جاتی ہوں۔ اب سنا ہے کہ عورتوں کا اس طرح کسی مدرسہ میں بیٹھنا جائز نہیں ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ عورتوں کا بنات کے مدرسہ میں اعتکاف میں بیٹھنا درست ہے یا گھر میں ؟
جواب
عورتوں کیلئے حکمِ شرعی یہ ہے کہ گھر میں بنائی گی مسجد(نماز کیلئے مقرر کی گئی جگہ) میں اعتکاف کرے، اگر وہ نہ ہوتو گھر میں کسی جگہ کو مُعتکَف کی نیت سے خاص کرکے وہاں اعتکاف کرے۔گھر سے باہر بنات کے مدرسہ میں اجتماعی اعتکاف کی شکل بنانا آپ ﷺ و صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین كا طریقہ نہیں ہے۔نیز یہ فتنوں سے خالی بھی نہیں ، اس لئے اس سے احتراز کیا جائے۔ لما في الدر المختار:  لبث (امرأة في مسجد بيتها) ويكره في المسجد، ولا يصح في غير موضع صلاتها من بيتها كما إذا لم يكن فيه مسجد  قال ابن عابدين ؒ :(قوله كما إذا لم يكن فيه مسجد) أي مسجد بيت وينبغي أنه لو أعدته للصلاة عند إرادة الاعتكاف أن يصح  (الدر مع الرد، كتاب الصوم، باب الاعتكاف، 2/ 441 ط:دارالفكر)  المبسوط للسرخسيؒ:  ولا تعتكف المرأة إلا في مسجد بيتها  (كتاب الصوم، باب الاعتكاف، 3/ 119 ط:دارالمعرفة)ئ البتہ اگر گھر ہی کی عمارت میں مدرسہ قائم ہو اور اس گھر میں مقیم عورتیں اعتکاف بیٹھیں تو یہ گھر میں ہی اعتکاف ہے ، اس لیے اس کی اجازت ہے۔   فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: روزہ