عورتوں کا مدرسہ میں اعتکاف کرنا
سوال
ہمارے محلہ میں ایک چھوٹا سا مدرسہ ہے، وہاں صرف بچیاں پڑھتی ہیں۔ وہاں میں اعتکاف میں بیٹھ جاتی ہوں۔ اب سنا ہے کہ عورتوں کا اس طرح کسی مدرسہ میں بیٹھنا جائز نہیں ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ عورتوں کا بنات کے مدرسہ میں اعتکاف میں بیٹھنا درست ہے یا گھر میں ؟
جواب
عورتوں کیلئے حکمِ شرعی یہ ہے کہ گھر میں بنائی گی مسجد(نماز کیلئے مقرر کی گئی جگہ) میں اعتکاف کرے، اگر وہ نہ ہوتو گھر میں کسی جگہ کو مُعتکَف کی نیت سے خاص کرکے وہاں اعتکاف کرے۔گھر سے باہر بنات کے مدرسہ میں اجتماعی اعتکاف کی شکل بنانا آپ ﷺ و صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین كا طریقہ نہیں ہے۔نیز یہ فتنوں سے خالی بھی نہیں ، اس لئے اس سے احتراز کیا جائے۔
لما في الدر المختار:
لبث (امرأة في مسجد بيتها) ويكره في المسجد، ولا يصح في غير موضع صلاتها من بيتها كما إذا لم يكن فيه مسجد
قال ابن عابدين ؒ :(قوله كما إذا لم يكن فيه مسجد) أي مسجد بيت وينبغي أنه لو أعدته للصلاة عند إرادة الاعتكاف أن يصح
(الدر مع الرد، كتاب الصوم، باب الاعتكاف، 2/ 441 ط:دارالفكر)
المبسوط للسرخسيؒ:
ولا تعتكف المرأة إلا في مسجد بيتها
(كتاب الصوم، باب الاعتكاف، 3/ 119 ط:دارالمعرفة)ئ
البتہ اگر گھر ہی کی عمارت میں مدرسہ قائم ہو اور اس گھر میں مقیم عورتیں اعتکاف بیٹھیں تو یہ گھر میں ہی اعتکاف ہے ، اس لیے اس کی اجازت ہے۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
حوالہ: روزہ