فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

عدالتی خلع بغیر شوہر کی رضامندی کے: کیا نکاح برقرار ہے اور دوبارہ آباد ہونے کا شرعی حکم؟

فتویٰ نمبر 307202610243 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

عدالتی خلع بغیر شوہر کی رضامندی کے: کیا نکاح برقرار ہے اور دوبارہ آباد ہونے کا شرعی حکم؟

سوال
خالدہ (فرضی نام)نے اپنے شوہرعابد (فرضی نام ) کے خلاف عدالت میں کیس دائر کیا اور عدالت کے بر بناء خلع فیصلہ کردیا،جبکہ شوہر عدالت میں آیا نہیں ، اور نہ ہی کبھی زبانی طلاق دی اور نہ لکھ کر طلاق دی۔ اب فریقین دوبارہ آباد ہونا چاہتے ہیں، آیاآبا دہوسکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ خلع ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر مالی معاملات مثلاً بیع، اجارہ وغیرہ میں جانبین کی رضامندی شرط ہے، اس کے بغیر وہ معاملہ شرعاً درست نہیں ہوتا، اسی طرح خلع میں بھی جانبین کی رضامندی شرط ہے، فقط ایک فریق کے چاہنے سے خلع واقع نہیں ہوتی، جبکہ زیرِ بحث صورت میں شوہر عدالت میں حاضر نہیں ہوا، اور نہ ہی اس نے اس خلع کے فیصلہ کو تسلیم کیا، نہ زبانی و تحریری طلاق دی، لہٰذا اگر فریقین دوبارہ آباد ہونا چاہیں تو احتیاطاً دوبارہ نکاح کرکے آباد ہوسکتے ہیں؛کیونکہ عدالت کے فیصلہ کی وجہ سے شبہہ پایا گیا۔ لما في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:  وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول  (كتاب الطلاق،3/ 145 ط:دار الكتب العلمية)  هكذا في رد المحتار (الدر مع الرد، كتاب الطلاق، باب الخلع، 3/ 441 ط: دارالفكر)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق