فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

لاولد مرحومہ کی وصیت، قرض کے اقرار اور بہن و بھتیجوں میں 70 لاکھ ترکہ کی شرعی تقسیم

فتویٰ نمبر 307202610241 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

لاولد مرحومہ کی وصیت، قرض کے اقرار اور بہن و بھتیجوں میں 70 لاکھ ترکہ کی شرعی تقسیم

سوال
میری پھوپھی کا انتقال ہوا، مرحومہ لا ولد تھی، شوہر، والدین کا انتقال پہلے ہوگیا تھا، ورثاء میں ایک بہن ، ۱۳ بھتیجے زندہ ہیں، نیز مرحومہ نے منسلکہ وصیت نامہ بھی لکھا ہے، جوکہ وفات سے کئی سال قبل لکھوایا تھا، اس میں انھوں نے اپنی سوکن کی اولاد کیلئے کچھ رقم دینے کی وصیت کی ہے ، مسجد کو ۵۰ ہزار روپے دینے کا لکھے ہیں،اور اس میں تدفین کے اخراجات کیلئے ایک لاکھ روپے لکھے ہیں، جبکہ وفات سے پہلے اپنے کفن میں الگ سے رقم چھوڑی تھی، جس سےتدفین کے اخراجات ہوئے۔ وصیت کی گئی کل رقم ۲۶ لاکھ (۲۴،۵۰،۰۰۰ لاکھ روپے سوکن کی اولاد کیلئے، ۵۰ ہزار مسجد کیلئے، ایک لاکھ تدفین کے اخراجات )،جبکہ ترکہ میں ایک کوٹھی و ایک پلاٹ ہے، جب کی مجموعی مالیت تقریباً ۷۰ لاکھ ہے۔ ہر ایک کا حصہِ شرعی بتا دیں۔ جزاك الله خيرا
جواب
مسئلہ2/26 مضروب13 (متوفیہ)  میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بہن۔ بھتیجا ۔بھتیجا ۔بھتیجا ۔بھتیجا ۔بھتیجا ۔بھتیجا ۔بھتیجا ۔بھتیجا ۔بھتیجا ۔بھتیجا ۔بھتیجا ۔بھتیجا ۔بھتیجا  1۔ 1 13۔ 1۔ 1۔ 1۔ 1۔ 1۔ 1۔ 1۔ 1۔ 1۔ 1۔ 1۔ 1۔ 1  بر تقديرِ صحت واقعہ صورتِ مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ صدیقہ بی بی (متوفیہ) کا کل ترکہ چھبیس (26)حصے ہوکر حسبِ تفصیل بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ لما في الفتاوي الهندية:  التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهازه ودفنه، والدين،والوصية،والميراث  (كتاب الفرائض، 6/497 ط:قديمي)  منسلکہ تحریر صرف وصیت نہیں، بلکہ وصیت اور قرض کی ادائیگی کی وصیت ہے، لہٰذا قرض کی ادائیگی حسبِ ضابطہ کل مال سے ہوگی، اور وصیت باقی ماندہ مال کے تہائی سے پوری کی جائے گی، باقی قرض بننے کیلئے حقیقت میں قرض کا ہونا ضروری نہیں، بلکہ ظاہری اقرار ہی کافی ہے۔اگرچہ بعض حضرات نے فرق کیا ہے، لیکن متون و شروح میں یہی منقول ہے کہ قرض کا اقرار مطلقاً معتبر ہے، اس لئے فتوی اسی قول پر ہے، جیساکہ علامہ ابن عابدینؒ نے اس کی تصریح کی ہے: كما قال في رد المحتار: أطلقوه في مختصرات الجامع الكبير فكان إقرار المريض لغير وارثه صحيحا مطلقا، وإن أحاط بماله، والله - سبحانه - أعلم معين المفتي ونقله شيخ مشايخنا منلا علي ثم قال بعد كلام طويل: فالذي تحرر لنا من المتون والشروح أن إقرار المريض لأجنبي صحيح، وإن أحاط بجميع ماله وشمل الدين والعين، والمتون لا تمشي غالبا إلا على ظاهر الرواية وفي البحر من باب قضاء الفوائد متى اختلف الترجيح رجح إطلاق المتون اهـ. وقد علمت أن التفصيل مخالف لما أطلقه وإن حسنه من حيث المعنى لا الرواية اهـ (الرد مع الدر، كتاب الإقرار، باب إقرار المريض، 5/ 610 ط: دارالفكر) چونکہ وہ لوگ جن کیلئے قرض کا اقرار کیا گیا ہے، غیر وارث ہیں، اس لئے مذکورہ اقرار شرعاً معتبر قرار دیا جائے گا۔ اور قرض کی ادائیگی کے بعد حسبِ وصیت پچاس ہزار روپے مسجد میں دئیے جائیں گے۔اور کفن ودفن کیلئے مرحومہ الگ سے رقم چھوڑ کر گئی تھی اور اسی سے اخراجات پوری ہوگئے تھے، لہٰذا کفن و دفن کے متعلق کی گئی وصیت باطل ہوجائے گی۔ مذکورہ قرض اور وصیت پوری کرنے کے بعد باقی ماندہ ترکہ مذکورہ بالا طریقہ کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: وصیت