فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مسجد کے توسیعی منصوبے میں زمین کی خرید و وقف

فتویٰ نمبر 307202610236 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مسجد کے توسیعی منصوبے میں زمین کی خرید و وقف

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسجد کے متولی صاحب مسجد میں توسیع کی غرض سے ملحقہ مکان مکمل پیمنٹ کی ادائیگی کے ساتھ خرید کر مسجد میں شامل کر رہے ہیں۔ مگر مسجد کے کچھ نمازی حضرات نے متولی کو مشورہ دیا ہے کہ اگر اس کی صورت یہ اختیار کی جائے کہ مالکِ مکان کو پیمنٹ کی ادائیگی کردی جائے، لیکن رجسٹری اور انتقال میں خریدوفروخت کی جو حقیقی صورت ہے، اس کے بجائے براہِ راست وقف مسجد کرادی جائے، تاکہ خرچہ کم آئے۔بعض کہتے ہیں کہ ایسا کرنےسے مکان بیچنے والا قانوناً واقف شمار ہوگا ،جس کی وجہ سے کل کو اگر مسجد کو مسئلہ درپیش ہواور واقف کو حاضر کرنا پڑے یا واقف مسائل پیدا کرنے لگ جائے، اس لئے متولی کے نام رجسٹری کرنے کے بعد زمین وقف کردی جائے۔ اب کیا صورت اختیار کی جائے جوشرعی و قانونی اعتبار سے درست ہواور مستقبل کے حالات کے اعتبار نافع ہے؟ یا جو حقیقی صورت خرید وفروخت کی ہے، وہ اختیار کرکے قانونی طور پر جو ٹیکس بنتا ہے،اس کی ادائیگی کی جائے، اور جو ٹیکس بنتا ہے، اس کی ادائیگی مشترکہ فنڈ کے بجائے متولی ذاتی رقم سے کرنے پر تیار ہے، آیا ایسا کرسکتے ہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اصل حکم تو یہی ہے کہ زمین مسجد کے نام کم سے کم خرچ میں وقف ہوجائے ، تاہم قانونی پیچیدگیوں اور مستقبل کےلاحق احتمالی خطرات کے سدِ باب کیلئے متولی اپنے نام زمین ذاتی خرچ سے کرے اور پھرمسجد کیلئے وقف کردے تو بہت بہتر ہے۔ لما في فتاوى قاضيخان:  المتولي إذا اشترى من غلة المسجد حانوتاً أو داراً أو مستغلاً آخر جاز لأن هذا من مصالح المسجد (الخانية على هامش الهندية، كتاب الوقف، 3/ 167 ط:رشيدية)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: وقف