فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

وراثت میں ملی کتابوں پر زکوٰۃ کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 307202610235 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

وراثت میں ملی کتابوں پر زکوٰۃ کا شرعی حکم

سوال
میرے والد صاحب نے بیچنے کیلئے کتابیں چھپوائیں، پھر اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ پھریہ کتاب مجھے بطور وراثت ملی ہیں،جو کہ تقریباً 5 لاکھ روپے مالیت کی ہیں۔ جن کو میں نے اپنے مطالعہ وغیرہ کیلئے رکھ لیا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا ان پر زکوٰۃ لازم ہے۔
جواب
مذکورہ کتابیں اگرچہ مالِ تجارت تھیں،لیکن وراثت میں ملنے کی وجہ سے اب یہ سامانِ تجارت نہیں رہیں،اور آپ نے بھی اپنی ضرورت کیلئے رکھ لیا ہے ،  اس لئے اب ان پر زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔  لما في حاشية الشلبي:  قال في الذخيرة واتفق أصحابنا على أن من ورث أعيانا ونوى التجارة فيها عند موت مورثه لا يعمل بنيته، وقال في المحيط والمرغيناني إلا أن يكون ذهبا أو فضة فهي على ما ورثه  (حاشية الشلبي على التبيين، كتاب الزكاة، شرط صحة أداء الزكاة، 1/ 257 ط: المطبعة الكبرى الأميرية)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: زکات