فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

بیوی کے نشوزکی وجہ سے شوہر کا بطور خلع حق مہر واپس لینا

فتویٰ نمبر 307202610233 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

بیوی کے نشوزکی وجہ سے شوہر کا بطور خلع حق مہر واپس لینا

سوال
میری بیوی (مہوش)کو رحم کی ایک بیماری تھی۔ اس کا علاج شادی سے قبل والدین نے کیا۔ پھر بعد شادی میں نے بھی کیا۔ پھر بیماری بڑھ گئی اور رحم نکال دیا گیا۔ اب بیوی اپنے والدین کے گھر بیٹھ گئی ہے کہ میں تو اب آپ کے کسی کام کی نہیں ، مجھے چھوڑ دو۔ ایک بار کہا: میں کبھی اب اس گھر میں نہیں آؤں گی۔ آپ دوسری شادی کرلو۔ سسر کہتا ہے کہ آپ اس کو فارغ کردیں۔ جبکہ میں بار بار مطالبہ کررہا ہوں کہ آپ میرے ساتھ آباد ہوجائیں۔ آیا میرے لئے شرعی حکم کیا ہے؟ جبکہ بیوی آنے پر تیار نہیں ہے؟
جواب
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنا گھر آباد کرنے کی کوشش کرے اور بیوی کو بھی چاہیے کہ وہ ساتھ آباد ہوجائے، طلاق کا مطالبہ کرکے اپنا گھر برباد نہ کرے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ مباح چیزوں میں سب سے مبغوض اللہ تعالیٰ کے ہاں طلاق ہے۔كماجاء في رواية:أبغض الحلال عند الله الطلاق(مرقاة) اس صورت میں چونکہ نشور لڑکی کی جانب سے ہے، اس لئے شوہر کو چاہیے کہ وہ لڑکی والوں کے ساتھ طے کرلے کہ حق مہر سے دستبرداری پرخلع کرلیں۔ اگر وہ قبول کرلیں اور حق مہر سے دستبردار ہوجائیں تو شوہر خلع کی بنیاد پر طلاق دے دے۔  لما في الفتاوى الهندية:  إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية.  (كتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع، 1/ 488 ط:دارالفكر)  ولما في بدائع الصنائع:  وإن كان النشوز من قبلها فلا بأس بأن يأخذ منها شيئا قدر المهر۔۔۔ وأما الزيادة على قدر المهر ففيها روايتان ذكر في كتاب الطلاق أنها مكروهة۔۔۔ ونحن به نقول: إنه يحل له قدر ما آتاها  (كتاب الطلاق، فصل في حكم الخلع، 3/ 150، ط: دار الكتب العلمية)  فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق