مرحوم کے ترکہ کی تقسیم اور ہر وارث کا شرعی حصہ
سوال
میرے والد صاحب مسمیٰ نور محمد کا انتقال ہوچکاہے، ورثاء میں ایک بیوہ، والدہ، دو بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں، جن میں سے ایک بیٹا والد صاحب کی زندگی میں ہی وفات پاگیا تھا۔ترکہ میں 15 لاکھ روپے ہیں۔ ہر ایک شرعی حصہ بتا دیں۔ جزاکم اللہ خیرا
جواب
مسئلہ24/96 مضروب4 نورمحمد (متوفی)
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ والدہ بیٹی بیٹی بیٹا پہلے فوت ہونے والابیٹاو اس کے ورثاء
3۔ 4۔ 17 محروم
12 ۔16۔ 17۔ 17۔ 34
برتقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ نور محمد كا کل ترکہ 96 حصے ہو کر حسبِ تفصیل بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔
جو بیٹا مرحوم کی زندگی میں وفات پاگيا، وہ اور اس كے ورثاء مرحوم کے ترکہ سے شرعاً محروم رہیں گے۔
لما في المبسوط للسرخسي:
لِأَنَّ بَقَاءَ الْوَارِثِ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ شَرْطٌ لِوِرَاثَتِهِ عَنْهُ فَإِنَّ الْوِرَاثَةَ خِلَافَةٌ، وَالْحَيُّ يَخْلُفُ الْمَيِّتَ، فَأَمَّا الْمَيِّتُ فَلَا يَخْلُفُ الْمَيِّتَ
(کتاب الفرائض، 11 / 43 ط: دارالمعرفة)
ولما في رد المحتار:
(قَوْلُهُ إنَّمَا يَكُونُ بَعْدَ الْمَوْتِ) لِأَنَّ كَوْنَهُمْ وَرَثَةً لَا يَتَحَقَّقُ إلَّا بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ
(الرد مع الدر، کتاب الفرائض، 6 / 687 ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض