وقف شدہ زمین کا قیم معزول کرنا اور انتظام کی شرعی حیثیت
سوال
ناصر نے اپنی زمین وقف کی مدرسہ کیلئے اور خالد کواس کی ذمہ داری سپرد کی ، لیکن خالد اچھے طریقہ سے ادارہ نہیں چلا پا رہا۔۔۔ اب اس کے بارے میں شرعاً کیا حکم ہے؟ کیا ناصر اپنی زمین خود لے کر اس کا انتظام چلا سکتا ہے یا کسی اور کو اس کی ذمہ داری سپرد کر سکتا ہے؟بينوا فتوجروا
جواب
صورتِ مسئولہ اگر واقعۃً خالد اپنے امور درست طریقے سے انجام نہیں دے رہا ، جس کی وجہ سے ادارہ نہیں چل پا رہا تو ناصر چونکہ واقف ہے، اس کو اختیار ہے کہ وہ خالد کو معزول کرکے انتظام خود سنبھال لے، یا کسی اور ذمہ دار شخص کو اس کی ذمہ داری سپرد کردے۔
چنانچہ البحر الرائق ميں ہے:
وقال أبو يوسف الولاية للواقف وله أن يعزل القيم في حياته ويولي غيره أو يرد النظر إلى نفسه
(البحر مع منحة الخالق وتكملة الطوري، کتاب الوقف، 5/ 212 ط: دارالکتاب الإسلامي)
ترجمہ "اور امام ابو یوسفؒ نے فرمایا: (قیم بنانےکی ) ولایت واقف کو ہے، اور اسے اس بات کا اختیار ہے کہ وہ قیم کو اپنی زندگی میں معزول کردے اور اس کے علاوہ کو قیم بنا دے، یا خود اس کی نگہداشت کرے"
اور رد المحتار ميں ہے:
وأما الواقف فله عزل الناظر مطلقا به يفتي
(الرد مع الدر، كتاب الوقف، 4/ 382 ط: دارالفكر)
ترجمہ "اور بہرحال واقف سو اسے قیم کو معزول کرنے کا مطلقاً اختیار ہے"
فقط واللہ اعلم
الاشباه و النظائز:
الواقف إذا عزل الناظر؛ فإن شرط له العزل حال الوقف صح اتفاقا، وإلا لا عند محمد رحمه الله، ويصح عند أبي يوسف رحمه الله، ومشايخ بلخي اختاروا قول الثاني۔۔۔ والفتوى على قول أبي يوسف رحمه الله كما في الولوالجية.
(كتاب الوقف، ص: 164 ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: وقف