فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مکان یا دکان کےسامنے والے حصہ کو کرایہ پر دینے کا حکم:

فتویٰ نمبر 307202610227 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مکان یا دکان کےسامنے والے حصہ کو کرایہ پر دینے کا حکم:

سوال
اگر کسی شخص کا مکان یا دکان سڑک پر ہو، سڑک شارع عام ہو، سرکار کی ملکیت ہو۔ اس سڑک پر کوئی شخص ریڑھی یا پھٹہ لگائے تو مالکِ مکان یا دکان کا اس سے کرایہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ دکان یا مکان کی مملوکہ جگہ کے علاوہ  اس کے سامنے جو روڈ کی جگہ ہے وہ  چونکہ حکومت کی ہوتی ہے، جس سے تمام شہریوں منتفع ہوتے ہیں۔ لہٰذا جب یہ مالک مکان یا دکان کی ملکیت ہی نہیں تو اس جگہ پھٹہ وغیرہ لگانے والے سے کرایہ وصول کرنا درحقیقت غیر مملوک کا کرایہ لینا ہے جو کہ  ناجائز ہے۔نیزاس سے  سڑک  مزید تنگ ہوتی  ہے، جس سے باقی شہریوں کی حق تلفی ہوتی ہے، اور ان کی ایذا رسانی کا باعث ہے، جبکہ کسی مسلمان کو تکلیف پہنچانا حرام ہے۔نیز یہ نا جائز تجاوزات میں شمار ہوتا ہے، جس پر حکومت کی جانب سے اجازت نہیں ہے۔اس لئے دكاندار اس جگہ کو خالی رکھیں۔ البتہ مکان ودکان  کے سامنے کچھ حصہ مالک مکان ودکان نے اپنی مملوکہ جگہ سے اسی مقصد(کرائے وغیر ہ پر دینے کیلئے )چھوڑ رکھا ہے تو گورنمنٹ کے قوانین کی پاسداری اور شرائط کو پورا کرتے ہوئے اس کو کرایہ پر دینے کی شرعاً اجازت ہے۔   لما في تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق:  قال - رحمه الله - (ومن أخرج إلى الطريق العامة كنيفا أو ميزابا أو جرصنا أو دكانا فلكل نزعه) أي لكل أحد من أهل الخصومة مطالبته بالنقض كالمسلم البالغ العاقل الحر أو الذمي؛ لأن لكل منهم المرور بنفسه وبدوابه، فيكون له الخصومة بنقضه ۔۔۔۔ ثم الكلام في هذه المسألة في ثلاثة مواضع، أحدهما في أنه هل يحل له إحداثه في الطريق أم لا۔۔۔۔أما الإحداث فقد قال شمس الأئمة - رحمه الله - إن كان الإحداث يضر بأهل الطريق، فليس له أن يحدث ذلك فإن كان لا يضر بأحد لسعة الطريق جاز له إحداثه فيه ما لم يمنع منه؛ لأن الانتفاع في الطريق بالمرور فيه من غير أن يضر بأحد جائز فكذا ما هو مثله فيلحق به إذا احتاج إليه، وإذا أضر بالمارة لا يحل له لقوله - عليه الصلاة والسلام - «لا ضرر ولا ضرار في الإسلام»،۔۔۔۔وعلى هذا القعود في الطريق للبيع والشراء يجوز إن لم يضر بأحد وإن أضر لم يجز لما قلنا۔۔۔۔  (التبيين مع حاشية الشلبي، كتاب الديات، باب ما يحدثه الرجل في الطريق، 6/ 142 ط: المطبعة الكبرى الأميرية)  هكذا في مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر - العلمية (4/ 360)  وهكذا في الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 593)  وهكذا في البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 395) فقط واللہ اعلم
حوالہ: حقوق و آدابِ معاشرت