فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

پرانا مقررہ حق مہر ادا کرنے کا شرعی حکم اور ادائیگی کی صورت

فتویٰ نمبر 307202610226 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

پرانا مقررہ حق مہر ادا کرنے کا شرعی حکم اور ادائیگی کی صورت

سوال
میری شادی تقریباً ۱۹۶۵؁ء میں ہوئی اور حق مہر تین سو روپے طے ہوا، جو کہ ابھی تک ادا نہیں کیا۔ اب میں بیوی کو ۳۰۰ روپے دیتا ہوں لیکن وہ لینے پر تیار نہیں ہے۔ آیا میرے لئے کیا حکم ہے؟ اور حق مہر کیسے ادا ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ حق مہر جو مقرر کیا گیا ہو وہ شرعاً شوہر کے ذمہ قرض ہوتا (فتاوی دارالعلوم دیوبند، کتاب النکاح، رقم السوال: ۱۳۴۳ ط:دارالاشاعت) اور قرض کے بارے میں ضابطہ یہ ہے کہ اگر کوئی رقم قرض لی تو جتنا بھی عرصہ گزر جائے ، اتنی ہی رقم واپس کرنی ہو گی۔۔۔ لہٰذا قضاءً تو حکم یہی ہے کہ شوہرطے شدہ حق مہر ادا کرے ، البتہ اگر اخلاقاً از خود اقل مہر(جو کہ آج کل تقریباً پانچ ہزار ہے) دے دے یا کچھ اور دے کر بیوی کو لینے پر راضی کرلے۔ اگر بیوی لینے پر رضامند نہ ہوتو اس کو چاہیے کہ وہ شوہر کو حق مہر معاف کردے۔اگر اس پر بھی راضی نہ ہوتو کسی طرح حق مہر کی رقم اس کی ملکیت میں دے دے تو حق مہر ادا ہوجائے گا۔  فقط واللہ اعلم
حوالہ: نکاح