فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

عدت کے دوران بہن سے نکاح اور غیر کی منکوحہ سے شادی کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 307202610224 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

عدت کے دوران بہن سے نکاح اور غیر کی منکوحہ سے شادی کا شرعی حکم

سوال
زینب کا نکاح جمیل سے برادری ورشتہ داروں کی موجودگی میں ہوا، پھر وہ اپنے بہنوئی زاہد کے ساتھ بھاگ گئی اور جاکر اس سے کورٹ میرج کرلیااورجمیل نے اسی دن اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ آیا شرعاً یہ جائز ہےکہ بہن کی عدت میں دوسری بہن سے نکاح کرلے؟ 2۔ غیر کی منکوحہ سےطلاق لئے بغیر نکاح کرنا شرعاً کیسا ہے؟ 3۔ ان کے اس فعلِ بد میں تعاون ومشورہ دینے والوں کا کیا حکم ہے؟
جواب
1۔ واضح رہے کہ بیوی کی عدت ختم ہونے سے پہلے اس کی بہن سے نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں۔ لما في الهداية:  " وإذا طلق امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا لم يجز له أن يتزوج بأختها حتى تنقضي عدتها "  (كتاب النكاح، فصل في بيان المحرمات ، 1/ 188 ط: دار احياء التراث العربي) 2۔ شریعتِ اسلامیہ میں جب تک زوجین کے درمیان فرقت یا طلاق وغیرہ ہوکر عدت نہ گزر جائے عورت کا آگے دوسرے آدمی سے نکاح کرنا حرام و ناجائز ہے، اور عورت بدستور شوہر اول کی منکوحہ شمار کی جاتی ہے۔ لہٰذا زینب کایہ فعل حرام ہے، اس پر سچے دل سے نادم ہوکر اللہ تعالیٰ سے خوب توبہ و استغفار کرے۔اور زاہد سے فوراً علیحدگی اختیار کرلے۔  لما فی الفتاوى الهندية:  لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة.  (کتاب النکاح، 1 / 280 ط:دارالفکر)  ولما فی الدر المختار:  ( كل صلح بعد صلح فالثاني باطل وكذا ) النكاح بعد النكاح.  (کتاب النکاح، 5 / 636 ط:دارالفکر)  2۔ اس فعلِ بد پر تعاون کرنا کبیرہ گناہ اور حرام ہے۔ لہٰذا ایسے لوگوں کو فوراً اپنے فعل پر اعلانیہ توبہ کرنی چاہیے۔جیساکہ ارشادِخداوندی ہے:{وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ } [المائدة: 2]  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق