فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

ورثاء میں ایک بیوہ ، ایک حقیقی بہن ، ایک باپ شریک بھائی ، دو باپ شریک بہنیں اور ایک ماں شریک بہن ہوتو ترکہ کی تقسیم کا طریقہ

فتویٰ نمبر 307202610223 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

ورثاء میں ایک بیوہ ، ایک حقیقی بہن ، ایک باپ شریک بھائی ، دو باپ شریک بہنیں اور ایک ماں شریک بہن ہوتو ترکہ کی تقسیم کا طریقہ

سوال
ایک شخص کا انتقال ہوچکا ہے، ورثاء میں ایک بیوہ، ایک حقیقی بہن، ایک باپ شریک بھائی، دو باپ شریک بہنیں، ایک ماں شریک بہن ہے۔۔۔ مرحوم لاولد تھا، اور والدین کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ ایسےہی مذکورہ ورثاء کے علاوہ دو باپ شریک بھائی، ایک ماں شریک بھائی اور ایک ماں شریک بہن کا بھی انتقال مرحوم کی حیاتی میں ہی ہوگیا تھا۔ مہربانی فرما کر ہر ایک کا شرعی حصہ بتادیں۔جزاکم الله خيرا
جواب
مسئلہ48/12 مضروب4 حاجی محمد حبیب(متوفی) میت ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  بیوہ حقيقی بہن باپ شریک بھائی باپ شریک بہن باپ شریک بہن ماں شریک بہن  3 ۔6 ۔1۔ 2 12 ۔24۔ 2۔ 1۔ 1۔ 8 بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد از ادائے قرض و وصیتِ جائزہ حاجی محمد حبیب(مرحوم) کا کل ترکہ 48حصے ہو کر بیوہ کو 12 حصے، حقیقی بہن کو 24 حصے، باپ شریک بھائی کو 2 حصے، ہر باپ شریک بہن کو ایک حصہ، اور ماں شریک بہن کو 8 حصے ملیں گے۔  باقی جو پدری یا مادری بہن یا بھائی مرحوم سے پہلےفوت ہوئے ، وہ مرحوم کے ترکہ سے شرعاً محروم رہیں گے؛ کیونکہ وراثت کے مستحق ہونے کیلئے ضروری ہے کہ وارث مورث کی وفات کے وقت زندہ ہو۔  لما في المبسوط للسرخسي:  لِأَنَّ بَقَاءَ الْوَارِثِ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ شَرْطٌ لِوِرَاثَتِهِ عَنْهُ فَإِنَّ الْوِرَاثَةَ خِلَافَةٌ، وَالْحَيُّ يَخْلُفُ الْمَيِّتَ، فَأَمَّا الْمَيِّتُ فَلَا يَخْلُفُ الْمَيِّتَ  (کتاب الفرائض، 11 / 43 ط: دارالمعرفة)  ولما في رد المحتار:  (قَوْلُهُ إنَّمَا يَكُونُ بَعْدَ الْمَوْتِ) لِأَنَّ كَوْنَهُمْ وَرَثَةً لَا يَتَحَقَّقُ إلَّا بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ  (الرد مع الدر، کتاب الفرائض، 6 / 687 ط: دارالفكر)  فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض