فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

سات سال سے زائد عمر کے بیٹے کی حضانت کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 307202610219 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

سات سال سے زائد عمر کے بیٹے کی حضانت کا شرعی حکم

سوال
من مقر محمد آصف کی اپنی بیوی مسماۃ نمرہ ہارون سے جدائیگی ہوچکی ہے۔ہمارا ایک بیٹا مسمی ضیاء الرحمان ہے، جو کی عمر ۹ برس سے زائد ہے۔ آیا بیٹا کس کی پرورش میں ہوگا؟ جبکہ میں (باپ) اس کی پرورش کرنا چاہتا ہوں اور نمرہ (ماں) نے کسی اجنبی سے شادی کرلی ہے، جو ضیاء الرحمان کا رشتہ دار نہیں ہے۔
جواب
برتقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں ضیاء الرحمان چونکہ7سال کی عمر سے بڑا ہے، لہٰذا ا س کی پرورش کا حق باپ(محمد آصف) کو ہے۔ الدر المختار:  (والحاضنة۔۔۔ أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب۔۔۔  (الدر مع الرد، كتاب الطلاق، باب الحضانة، 3/ 566 ط: دارالفكر)  فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق