فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

بہن اور بھتیجے کی موجودگی میں ترکہ کی تقسیم کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 307202610218 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

بہن اور بھتیجے کی موجودگی میں ترکہ کی تقسیم کا شرعی حکم

سوال
میرے چچا مسمیٰ محمد بخش کا انتقال ہوا۔ ورثاء میں ایک بہن (گلاں مائی) ، ایک بھتیجا(امام بخش) اور چار بھتیجیاں(منظورا مائی، شمیم مائی، سکینہ مائی، نسیم مائی) ہیں۔والدین اور بیوی کا انتقال پہلے ہوگیا تھا۔ایک بھتیجا (ظفر) کا انتقال بھی پہلے ہوگیا تھا۔اس کی بیوہ اور اولاد ہیں۔ ہر ایک کا حصہ بتا دیں۔ جزاكم الله خيرا
جواب
مسئلہ2 محمد بخش( متوفی) میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  بہن (گلاں مائی) بھتیجا (امام بخش) چار بھتیجیاں بھتیجا(ظفر) کی اولاد  1 ۔ 1 ۔محروم محروم  بر تقديرِ صحت واقعہ صورتِ مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ محمد بخش(متوفی) کا کل ترکہ دو حصے ہوکرایک حصہ گلاں مائی (بہن) اور ایک حصہ امام بخش(بھتیجے) کو ملے گا۔  بھتیجے (ظفر) کا انتقال مرحوم سے پہلے ہوگیا تھا، اس لئے اس کی بیوہ اور اولاد مرحوم کے ترکہ سے شرعاً محروم رہیں گے۔نیز چاروں بھتیجیاں ذوی الارحام ہونے کی وجہ سے شرعاً ترکہ سے محروم رہیں گی۔  لما في المبسوط للسرخسي:  لِأَنَّ بَقَاءَ الْوَارِثِ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ شَرْطٌ لِوِرَاثَتِهِ عَنْهُ فَإِنَّ الْوِرَاثَةَ خِلَافَةٌ، وَالْحَيُّ يَخْلُفُ الْمَيِّتَ، فَأَمَّا الْمَيِّتُ فَلَا يَخْلُفُ الْمَيِّتَ  (کتاب الفرائض، 11 / 43 ط: دارالمعرفة)  ولما في رد المحتار:  (قَوْلُهُ إنَّمَا يَكُونُ بَعْدَ الْمَوْتِ) لِأَنَّ كَوْنَهُمْ وَرَثَةً لَا يَتَحَقَّقُ إلَّا بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ  (الرد مع الدر، کتاب الفرائض، 6 / 687 ط: دارالفكر)  فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض