بہن اور بھتیجے کی موجودگی میں ترکہ کی تقسیم کا شرعی حکم
سوال
میرے چچا مسمیٰ محمد بخش کا انتقال ہوا۔ ورثاء میں ایک بہن (گلاں مائی) ، ایک بھتیجا(امام بخش) اور چار بھتیجیاں(منظورا مائی، شمیم مائی، سکینہ مائی، نسیم مائی) ہیں۔والدین اور بیوی کا انتقال پہلے ہوگیا تھا۔ایک بھتیجا (ظفر) کا انتقال بھی پہلے ہوگیا تھا۔اس کی بیوہ اور اولاد ہیں۔
ہر ایک کا حصہ بتا دیں۔ جزاكم الله خيرا
جواب
مسئلہ2 محمد بخش( متوفی)
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بہن (گلاں مائی) بھتیجا (امام بخش) چار بھتیجیاں بھتیجا(ظفر) کی اولاد
1 ۔ 1 ۔محروم محروم
بر تقديرِ صحت واقعہ صورتِ مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ محمد بخش(متوفی) کا کل
ترکہ دو حصے ہوکرایک حصہ گلاں مائی (بہن) اور ایک حصہ امام بخش(بھتیجے) کو ملے گا۔
بھتیجے (ظفر) کا انتقال مرحوم سے پہلے ہوگیا تھا، اس لئے اس کی بیوہ اور اولاد مرحوم کے ترکہ سے شرعاً محروم رہیں گے۔نیز چاروں بھتیجیاں ذوی الارحام ہونے کی وجہ سے شرعاً ترکہ سے محروم رہیں گی۔
لما في المبسوط للسرخسي:
لِأَنَّ بَقَاءَ الْوَارِثِ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ شَرْطٌ لِوِرَاثَتِهِ عَنْهُ فَإِنَّ الْوِرَاثَةَ خِلَافَةٌ، وَالْحَيُّ يَخْلُفُ الْمَيِّتَ، فَأَمَّا الْمَيِّتُ فَلَا يَخْلُفُ الْمَيِّتَ
(کتاب الفرائض، 11 / 43 ط: دارالمعرفة)
ولما في رد المحتار:
(قَوْلُهُ إنَّمَا يَكُونُ بَعْدَ الْمَوْتِ) لِأَنَّ كَوْنَهُمْ وَرَثَةً لَا يَتَحَقَّقُ إلَّا بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ
(الرد مع الدر، کتاب الفرائض، 6 / 687 ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض