فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

ایک فریق کی وفات کے بعد ٹھیکہ کے معاہدہ کی شرعی حیثیت

فتویٰ نمبر 304202610204 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

ایک فریق کی وفات کے بعد ٹھیکہ کے معاہدہ کی شرعی حیثیت

سوال
فریق اوّ ل (سائل) کا معاہدہ بابت ٹھیکہ زمین فریقِ آخر سے ہوا، جس میں طے ہوا کہ ۲۰۲۰؁ء کے بعد ٹھیکہ ۱۴۰،۰۰۰ ہوگا، پھرفریق دوم اللہ کو پیارے ہوگئے، پھر اس کے بیٹے نے کہا کہ ٹھیکہ بڑھاؤ، میں نے کہا کہ آپ مجھے حصے پر زمین دے دیں، لیکن انھوں نے زمین مجھ سے لیکر دوسرے فرد کودے دی۔آیا والد کا کیا ہوئے معاہدہ کی خلاف ورزی بیٹا کرسکتا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ فریقین میں سے ایک فوت ہوجائے تو آئندہ سال (جس کا ٹھیکہ متوفی نے وصول نہیں کیا تھا ) کا معاہدہ ختم ہوجاتا ہے۔ لما في فتح القدير للكمال ابن الهمامؒ:  وإذا مات أحد المتعاقدين بطلت المزارعة  (كتاب المزارعة، 9/ 473 ط:دارالفكر)  لہٰذا   رواں سال مکمل ہونے تک  تو زمین سائل کے پاس رہے گی ، اسی طرح آئندہ جتنے سال کے پیسے  متوفی وصول کر چکا ہے ان سالوں میں بھی زمین متوفی کے پاس رہے گی ، لیکن جس سال  کے پیسے متوفی نے وصول نہیں کیے ان سالوں کا معاہدہ متوفی کا  بیٹا ختم کرنے اور دوسرے فرد کو زمین دینے کا مکمل اختیار ہے۔  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: مزارعت