فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

عمومی چندہ سے طلبہ و اساتذہ کو حسنِ کارکردگی پر انعام دینے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 304202610201 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

عمومی چندہ سے طلبہ و اساتذہ کو حسنِ کارکردگی پر انعام دینے کا شرعی حکم

سوال
مدرسہ جس کے تمام تر وسائل عوام سے وصول کئے ہوئے چندہ سے پورے کئے جاتے ہیں۔آیا عمومی چندہ سے امتحانات و دیگر مواقع پر حسنِ کارکردگی کے عنوان سے طلباء و اساتذہ کو انعامات دئیے جاسکتے ہیں؟بينوا فتؤجروا
جواب
واضح رہے کہ چندہ دہنگان کا چندہ دینے سے مقصود مدرسے میں رائج نظام میں مالی تعاون ہوتا ہے،اور عام طور پر مدارس میں چندہ سےطلباء و مدرسین کو حسنِ کارکردگی پر انعام دیا جاتا ہے، لہٰذا چندہ سے طلباء و مدرسین کو حسنِ کارکردگی کی بنیاد پر انعام دینے کی شرعاً گنجائش ہے، تاہم اگر عطیات سےانعام دیئے جائیں تو زیادہ بہتر ہے۔  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: علوم و فنون