فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

بالغ اور عاقل لڑکی کا از خود نکاح کرنے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 304202610198 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

بالغ اور عاقل لڑکی کا از خود نکاح کرنے کا شرعی حکم

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لڑکا اور لڑکی عاقل بالغ ہوں تو گھر والوں اور ولی کی اجازت کے بغیر ازخود نکاح کرسکتے ہیں؟
جواب
      واضح رہے کہ لڑکے کے نکاح اولیاء کی سرپرستی اور اجازت کے بغیر ہر حال میں منعقد ہوجاتا ہے لیکن جب والدین نکاح وغیرہ کیلئے فکر مند ہوں تو والدین کی اجازت او رمرضی کے خلاف اس طرح کا اقدام بے برکت ہوتا ہے ، والدین کی مرضی کے ساتھ ہی اس رشتہ کی بنیاد رکھی جائے ۔  اور  لڑکی اپنے شرعی سرپرست ولی کی مرضی کے خلاف از خود  نکاح کرلے،تو دیکھا جائے گا کہ یہ نکاح لڑکی کے کفو میں ہوا ہے یا نہیں اگر کفو میں نہیں ہو ا تو نکاح منعقد نہیں ہوتا بلکہ والد /ولی کی اجازت پر موقوف رہتا ہے ، اگر وہ اجازت دیدے تو نافذ ہوجاتا ہے ورنہ نہیں۔ لیکن اگر یہ نکاح کفو میں ہوا ہو تو پھر منعقد ہوجاتا ہے، لیکن  یاد رہے کہ لڑکی کا ازخود نکاح کرنا شرم و حیا کے خلاف ہے۔ لما في البحرالرائق :  روى الحسن عن الإمام أنه إن كان الزوج كفؤا نفذ نكاحها وإلا فلم ينعقد أصلا  (البحر مع منحة الخالق وتكملة الطوري، کتاب النکاح،باب الأولياء والأكفاء في النكاح، 3/ 118، ط:دارالکتب العلمیۃ)  هكذا في المبسوط للسرخسيؒ(كتاب النكاح، باب النكاح بغير ولي، 5/ 10 ط:دار المعرفة)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: نکاح