بالغ اور عاقل لڑکی کا از خود نکاح کرنے کا شرعی حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لڑکا اور لڑکی عاقل بالغ ہوں تو گھر والوں اور ولی کی اجازت کے بغیر ازخود نکاح کرسکتے ہیں؟
جواب
واضح رہے کہ لڑکے کے نکاح اولیاء کی سرپرستی اور اجازت کے بغیر ہر حال میں منعقد ہوجاتا ہے لیکن جب والدین نکاح وغیرہ کیلئے فکر مند ہوں تو والدین کی اجازت او رمرضی کے خلاف اس طرح کا اقدام بے برکت ہوتا ہے ، والدین کی مرضی کے ساتھ ہی اس رشتہ کی بنیاد رکھی جائے ۔
اور لڑکی اپنے شرعی سرپرست ولی کی مرضی کے خلاف از خود نکاح کرلے،تو دیکھا جائے گا کہ یہ نکاح لڑکی کے کفو میں ہوا ہے یا نہیں اگر کفو میں نہیں ہو ا تو نکاح منعقد نہیں ہوتا بلکہ والد /ولی کی اجازت پر موقوف رہتا ہے ، اگر وہ اجازت دیدے تو نافذ ہوجاتا ہے ورنہ نہیں۔ لیکن اگر یہ نکاح کفو میں ہوا ہو تو پھر منعقد ہوجاتا ہے، لیکن یاد رہے کہ لڑکی کا ازخود نکاح کرنا شرم و حیا کے خلاف ہے۔
لما في البحرالرائق :
روى الحسن عن الإمام أنه إن كان الزوج كفؤا نفذ نكاحها وإلا فلم ينعقد أصلا
(البحر مع منحة الخالق وتكملة الطوري، کتاب النکاح،باب الأولياء والأكفاء في النكاح، 3/ 118، ط:دارالکتب العلمیۃ)
هكذا في المبسوط للسرخسيؒ(كتاب النكاح، باب النكاح بغير ولي، 5/ 10 ط:دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
حوالہ: نکاح