فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

منکوحہ عورت کا بدون طلاق دوسری جگہ نکاح کا حکم

فتویٰ نمبر 304202610195 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

منکوحہ عورت کا بدون طلاق دوسری جگہ نکاح کا حکم

سوال
ایک شخص کی منکوحہ کو شوہر نے طلاق نہ دی ہو اور وہ آگے کسی اور سے نکاح کرلے تو دوسرا نکاح جائز ہے؟
جواب
واضح رہے کہ شریعتِ اسلامیہ میں جب تک زوجین کے درمیان فرقت یا طلاق وغیرہ ہوکر عدت نہ گزر جائے عورت کا آگے دوسرے آدمی سے نکاح کرنا حرام و ناجائز ہے، اور عورت بدستور شوہر اول کی منکوحہ شمار کی جاتی ہے۔ لما فی الفتاوى الهندية:  لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة.  (کتاب النکاح، 1 / 280 ط:دارالفکر)  ولما فی الدر المختار:  ( كل صلح بعد صلح فالثاني باطل وكذا ) النكاح بعد النكاح.  (کتاب النکاح، 5 / 636 ط:دارالفکر)  ولما فی البحر الرائق:  والسادس المحرمة لحق الغير كمنكوحة الغير ومعتدته۔۔۔  (کتاب النکاح،8 / 10 ط: دارالکتاب الإسلامي)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: نکاح