فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مسجد کی تعمیر کے لیے چندہ دہندہ کے والدین کے نام کی تختی لگانے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 304202610194 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مسجد کی تعمیر کے لیے چندہ دہندہ کے والدین کے نام کی تختی لگانے کا شرعی حکم

سوال
ہماری مسجد زیرِ تعمیر ہے اور کسی صاحب نے کہا ہے کہ آگر آپ دیوار پر میرے والدین کے نام کی تختی لگوادیں تو میں آپ کی مسجد کی ایک منزل تعمیرکروا دیتا ہوں۔کیا اس طرح سے مسجد کی تعمیر کروانا اور نام کی تختی لگانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر مسجد چندہ دہندہ کے نام کا کتبہ آیزاں کیا جائے تو ریا کا ری کے مفسدہ کے پائے جانے کی وجہ سے منع کیا جاتا ہے،جبکہ زیرِ بحث صورت میں چندہ دہندہ کے والدین کے نام کی تختی لگانا مطلوب ہے، جس میں ریاکاری کا مفسدہ نہیں پایا جاتا ، نیز اکابرینؒ سے اب تک بہت سے نامور مدارس و مکاتب میں معمول رہا ہے کہ چندہ دہندہ یا ان کے مرحومین کے نام کی تختی آیزاں کی جاتی ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چندہ دہندہ کے والدین کے نام کا کتبہ آیزان کرنے کی شرعاً گنجائش ہے۔ بہتر یہ ہے کہ برائے ایصال ثواب کا لفظ بھی ساتھ لکھ دیا جائے تاکہ دوسرے لوگوں کو بھی کتبہ کا مقصدہ بھی واضح ہوجائے اور دوسرے لوگوں کو بھی اس عمل کی ترغیب ہوجائے۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: حظر و اباحت