فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

میت کی زمین کی شرعی تقسیم

فتویٰ نمبر 304202610188 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

میت کی زمین کی شرعی تقسیم

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص فوت ہوگیا ہے، ورثاء میں ایک بیوہ، والدہ،۲ بیٹیاں، اور ۳ بھائی ہیں۔ مرحوم کے والد زندگی میں ہی انتقال کر گئے تھے۔ مرحومہ کی نرینہ اولاد نہ تھی۔ نیز کوئی بہن بھی نہیں ہے۔ ترکہ میں ایک کنال سات مرلے زمین ہے۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔ نیز اس زمین پر میت کا چچا قابض ہے۔آیا اس کا شرعاً کوئی حصہ بنتا ہے؟ اگر بنتا ہے تو کتنا؟ اگر نہیں بنتا تو اس کا قبضہ کرنا شرعاً کیسا ہے؟ جزاکم اللہ خیرا
جواب
مسئلہ24/72 مضروب3 میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  بیوہ ۔والدہ۔ بیٹی۔ بیٹی۔ بھائی۔ بھائی۔ بھائی۔ چچا 3 ۔4 ۔16۔ 1 محروم 9 ۔12۔ 24 ۔24۔ 1۔ 1۔ 1 برتقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ازادائے قرض و وصیتِ جائزہ مرحوم كا کل ترکہ 72 حصے ہو کر حسبِ تفصیل بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔نو (9)حصے بیوہ کو، 12 حصے والدہ کو 24 حصے ہر بیٹی کو  اور ایک ایک حصہ ہر بھائی کو ملے گا۔میت کے چچا کا اس میں شرعاً کوئی حصہ نہیں بنتا، لہٰذا اس کو چاہیے کہ فی الفور ان کی زمین فارغ کرکے حقیقی وارثان کے حوالہ کردے ، اگر ایسا نہ کرے گا تو حدیث میں بڑی سخت وعید آئی ہے، چنانچہ آپﷺ نے فرمایا: جس نے ایک بالشت زمین ظلما(یعنی ناحق ) لی تو اسے قیامت کے دن ساتوں زمین کا طوق (بنا کراس کی گردن میں )ڈالا جائے گا۔ عن سعيد بن زيد قال:لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»  (صحيح البخاري، كتاب بدء الخلق، باب ما جاء في سبع أرضين، رقم الحديث:3198، 4/ 107 ط:دار طوق النجاة)  دوسری جگہ ارشاد فرمایا: "کوئی آدمی (دوسرے کا) کوئی مال چھینتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ مجذوم(برص زدہ )ہوگا۔  "إنه لا يقتطع رجل مالا إلا لقي الله عز وجل يوم القيامة وهو أجذم". "طب" عن الأشعث بن قيس.  (كنز العمال، حرف الغين، كتاب الغصب من قسم الأقوال، رقم الحدیث:30342، 10/ 637 ط:مؤسسة الرسالة)  باقی زمین کو قیمت کے اعتبار سے تقسیم کریں گے، زمین کو تقسیم نہیں کریں گے؛کیونکہ زمین کو حصوں کے اعتبار سے تقسیم کرنے سے بعض کو کم قیمت کا حصہ ملنے سے اسکی حق تلفی ہوگی۔لما في مجلة الأحكام العدلية:  إذاكان في تقسيم الدار أبنية إحدى الحصتين أغلى ثمنا من الحصة الأخرى فإن أمكن تعديلها بإعطاء مقدار من العرصة فيها وإلا فتعدل بالنقود  (الكتاب العاشر في الشركات، الباب الثاني: في بيان القسمة، الفصل الخامس: في بيان كيفية القسمة، رقم المادة:1149 ص222 ط:نور محمد)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: حظر و اباحت