فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

بہن کے انتقال پر بھائی بہنوں میں وراثت کی تقسیم

فتویٰ نمبر 304202610187 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

بہن کے انتقال پر بھائی بہنوں میں وراثت کی تقسیم

سوال
میری بہن فوت ہوگئیں ہیں، متوفیہ کی اولاد نہیں ہے،اور شوہر اور والدین کا انتقال مرحومہ کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔جبکہ ورثاء میں تین بھائی اور پانچ بہنیں ہیں۔ جن میں سےدو بہنوں کا انتقال مرحومہ سے پہلے ہوچکا تھا۔باقی تین زندہ ہیں۔ دونوں فوت شدہ بہنوں کی اولاد ہے۔ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔
جواب
مسئلہ9 ثمینہ (متوفیہ) میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بھائی۔ بھائی۔ بھائی۔ بہن ۔بہن ۔بہن   2۔ 2 ۔2 ۔1 ۔1۔ 1  بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ متوفیہ کا  کل ترکہ 9 حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ ہر بہن کو ایک ایک اور ہر بھائی کو دو دو حصے ملیں گے۔  جو بہنیں مرحومہ کی زندگی میں وفات پاگئیں تھیں،  وہ اور ان کی ورثاء ثمینہ کے ترکہ سے شرعاًمحروم رہیں گے۔ لما في رد المحتار:  (قوله إنما يكون بعد الموت) لأن كونهم ورثة لا يتحقق إلا بعد موت المورث  (الرد مع الدر، کتاب الفرائض، 6 / 687 ط: دارالفكر)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض