فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

کیا بکرے کے کپورے کھانا جائز ہے؟

فتویٰ نمبر 304202610184 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

کیا بکرے کے کپورے کھانا جائز ہے؟

سوال
بکرے کے کپورے کھانا شرعاً کیسا ہے؟ جزاكم الله خيرا
جواب
کپورےکھاناناجائز اور مکرو ہ تحریمی ہےخواہ وہ بکرےکے ہوں یا کسی اورجانورکے؛ کیونکہ یہ ان اشیاء میں سے ہے جن کا کھانا مکروہ تحریمی ہے۔۔۔ اور مکروہ تحریمی اور حرام دونوں كا حكم ترك ميں یکساں ہے، یعنی دونوں کا ترک ضروری ہے۔ السنن الكبرى للبيهقي (10/ 7) عن مجاهد قال : كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يكره من الشاة سبعا الدم والمرار والذكر والأنثيين والحيا والغدة والمثانة قال وكان أعجب الشاة إليه -صلى الله عليه وسلم- مقدمها. هذا منقطع. رد المحتار: (كره تحريما) وقيل تنزيها والأول أوجه (من الشاة سبع الحياء والخصية والغدة والمثانة والمرارة والدم المسفوح والذكر) للأثر الوارد في كراهة ذلك قوله كره تحريما) لما روى الأوزاعي ۔۔۔۔۔۔ عن مجاهد قال: «كره رسول الله - صلى الله عليه وسلم - من الشاة الذكر والأنثيين والقبل والغدة والمرارة والمثانة والدم» ، قال أبو حنيفة: الدم حرام وأكره الستة، وذلك لقوله عز وجل - {حرمت عليكم الميتة والدم} [المائدة: 3]- الآية فلما تناوله النص قطع بتحريمه وكره ما سواه۔ (الدر مع الرد، كتاب الحظر والإباحة، 6/ 749 ط: دارالفکر) الدر المختار: (كل مكروه) أي كراهة تحريم (حرام) أي كالحرام في العقوبة بالنار (عند محمد)۔۔۔ (الدر مع الرد، كتاب الحظر والإباحة، 6/ 336 ط: دارالفکر) فقط واللہ اعلم
حوالہ: ایمان و عقائد