فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

گود لیے بچے کی ولدیت کس کے نام سے ہوگی؟

فتویٰ نمبر 304202610181 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

گود لیے بچے کی ولدیت کس کے نام سے ہوگی؟

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بچے نے گود لیا، اسے پالا پوسہ ۔ اس کی ولدیت میں اپنا نام لکھوا دیا۔ اب اس کا نکاح ہورہا ہے، لے پالک والد کا نام ولدیت میں لکھ اور لے سکتے ہیں؟
جواب
واضح رہے کہ لے پالک بچے کے شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات وغیرہ میں اس کے حقیقی والد کا نام لکھنا ضروری ہے، پالنے والے کا نام بطور والد لکھنا بالکل جائز نہیں ہے، بلکہ نبی کریمﷺ نے ایسے شخص کے بارے میں جو جان بوجھ کر اپنے آپ کو حقیقی والد کے غیر کی طرف منسوب کرے، اس پر جنت کو حرام قرار دیا ہے۔ عن سعد رضي الله عنه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام» (صحيح البخاري، كتاب الفرائض، باب من ادعى إلى غير أبيه، رقم الحديث: 6766، 8/ 156 ط: دار طوق النجاة) نیز ارشادِ خداوندی ہے: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} [الأحزاب: 5] ترجمہ: "ان کو انکے باپوں کے نام سے پکارو، یہی اللہ(تعالیٰ) کے ہاں زیادہ انصاف والا(معاملہ) ہے" اور تفسیر روح المعانی میں ہے: ويعلم من الآية أنه لا يجوز إنتساب الشخص إلى غير أبيه (روح المعاني، الأحزاب: 5، 21/ 149 ط: إحياء التراث العربي) ترجمہ: "اور آیت سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ کسی شخص کو اس کے والد کے غیر کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ہے" الحاصل حقیقی والد کے بجائے پالنے والے کا نام لکھنا حرام وگناہ ہے۔ بچے کو اس کے حقیقی والد کے بجائے پالنے والے کی طرف منسوب کرنا اور دستاویزات مثلاً نکاح نامہ وغیرہ میں ولدیت کے خانہ میں پرورش کرنے والےکا نام لکھنا حرام وگناہ ہے، البتہ سرپرست میں نام لکھ سکتے ہیں۔باقی بوقت نام حقیقی والد کا نام لیا جائے، ولدیت میں لے پالک کا نام لے لیا اور مذکورہ بچہ حاضر ہوا تو نکاح ہوجائے گااور اگر غائب ہوگا تو نکاح منعقد نہیں ہوگا۔لما في الأشباه والنظائر لابن نجيمؒ: ولو غلط وكيلها بالنكاح في اسم أبيها ولم تكن حاضرة لا ينعقد النكاح (الفن الثاني، کتاب النکاح، ص: 148 ط: دار الكتب العلمية) فقط واللہ اعلم
حوالہ: رضاعت