فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

کیا چالیس دن الگ رہنے سے طلاق ہوجاتی ہے؟

فتویٰ نمبر 304202610180 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

کیا چالیس دن الگ رہنے سے طلاق ہوجاتی ہے؟

سوال
میرے پانچ بچے ہیں، رمضان میں شوہر نے ایک طلاق دی تھی ، پھر بعد میں دوبارا نکاح کرکے آباد ہوگئے تھے۔ پھر لڑائی ہوئی تو میں اپنے میکے آگئی، اب تقریباً چار ماہ ہورہے ہیں۔ کسی نے کہا ہے کہ اگر زوجین چالیس دن جدا رہیں تو ایک طلاق ہوجاتی ہے۔ آیا یہ سچ ہے؟ نیز ہم نیا نکاح کئے بغیر اکھٹے رہ سکتے ہیں ؟
جواب
طلاق يا تفریقِ شرعی کے بغیرمحض زوجین کے الگ رہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ، خواہ کتنا ہی عرصہ جدارہیں۔ لما فی الدر المختار: وركنه لفظ مخصوص قال ابن عابدينؒ: (قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية (الدر مع الرد، كتاب الطلاق، 3/ 230 ط: دارالفکر) فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق