مرحوم کے قرض کی وراثت میں تقسیم
سوال
میرے ماموں کا انتقال پہلے ہوچکا ہے۔
میں نے عبدالستار سے بیس ہزار روپے قرض لئے تھے، اب تمام ورثاء کو واپس کرنے لگا تو ایک بیٹے کی بیوی مسماۃ انجم بی بی نے کہا کہ سارے پیسے مجھے دے دیں،کیونکہ انھوں نے یہ رقم مجھ سے قرض لے کر دی تھی۔۔۔آیا یہ مکمل رقم اسی کو دے دی جائے یا تمام ورثاء کا حق ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں انجم بی بی مدعیہ ہے کہ مرحوم نے مجھ سے رقم قرض لی تھی، لہٰذا اس کے ذمہ شرعاً لازم ہے کہ وہ اپنے دعوی پر شرعی گواہ (یعنی دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ) پیش کرے، اگر شرعی گواہ پیش نہ کر سکے تو مذکورہ بیس ہزار روپے تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصص کے تناسب سے تقسیم ہوگی۔لقوله عليه السلام---"البينة على المدعي واليمين على من أنكر"الحدیث
فقط واللہ اعلم
حوالہ: آبق ومفقود