فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مرحوم کے قرض کی وراثت میں تقسیم

فتویٰ نمبر 303202610178 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مرحوم کے قرض کی وراثت میں تقسیم

سوال
میرے ماموں کا انتقال پہلے ہوچکا ہے۔ میں نے عبدالستار سے بیس ہزار روپے قرض لئے تھے، اب تمام ورثاء کو واپس کرنے لگا تو ایک بیٹے کی بیوی مسماۃ انجم بی بی نے کہا کہ سارے پیسے مجھے دے دیں،کیونکہ انھوں نے یہ رقم مجھ سے قرض لے کر دی تھی۔۔۔آیا یہ مکمل رقم اسی کو دے دی جائے یا تمام ورثاء کا حق ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں انجم بی بی مدعیہ ہے کہ مرحوم نے مجھ سے رقم قرض لی تھی، لہٰذا اس کے ذمہ شرعاً لازم ہے کہ وہ اپنے دعوی پر شرعی گواہ (یعنی دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ) پیش کرے، اگر شرعی گواہ پیش نہ کر سکے تو مذکورہ بیس ہزار روپے تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصص کے تناسب سے تقسیم ہوگی۔لقوله عليه السلام---"البينة على المدعي واليمين على من أنكر"الحدیث فقط واللہ اعلم
حوالہ: آبق ومفقود