زمین کی تقسیم میں درختوں کا حق اور بعد از تقسیم مطالبہ
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم نے چھ سال قبل زمین کی تقسیم کی۔ زمین میں معمولی درخت بھی تھے۔ تقسیم کی صورت میں کچھ درخت ہمارے حصہ میں آئے، اور کچھ دوسرے کے حصہ میں آئے۔ زمین کی تقسیم کے وقت درختوں کی تقسیم کے متعلق کوئی بات چیت نہ ہوئی۔ اب جب ہم نے اپنے حصہ کے درختوں کو بیچا تو دوسرا شریک کہتا ہے کہ مجھے بھی درختوں کی قیمت میں سے حصہ دو۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ دوسرے شریک کو مطالبے کا حق ہے یا نہیں ؟
جواب
مفتی سہیل نے جواب دیا کہ درخت داخل ہیں، حوالہ:
الفتاوى الهندية (5/ 215)
ويدخل الشجر في قسمة الأراضي وإن لم يذكروا الحقوق والمرافق كما تدخل في بيع الأراضي
برتقدیرِصحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں جب تقسيم ہورہی تھی تو تقسیم کی درج ذیل صورتیں اختیار کی جاسکتی تھیں:
۱۔ زمین بمع درختوں کو قیمت کی برابری کے اعتبار سے تقسیم کرتے کہ جس کے حصہ میں زیادہ درخت یا قیمتی درخت آگئے ہوں تو اسے زمین بنسبت دوسرے کے کم دی جاتی۔
۲۔ زمین برابری کے لحاظ سے بغیر درختوں کو شمار کئے تقسیم کی جاتی،پھر درختوں کی قیمت لگا کر تقسیم کرتے۔
لما في درر الحكام في شرح مجلة الأحكام:
بما أن العرصة والأراضي من الذرعيات فيقسمان بالذراع أما ما عليهما من الأشجار والأبنية فيقسم بتقدير القيمة۔۔۔ مثلا لو أراد اثنان تقسيم البستان المملوك لهما إرثا الحاوي أشجارا مختلفة القيمة فيقسمان العرصة بالذراع والأشجار بتقدير القيمة
(الكتاب العاشر في الشركات، باب في بيان القسمة، الفصل الخامس في بيان كيفية القسمة،3/ 148،149، رقم المادة:1148 ط:دارالجيل)
ولما في الفتاوى الهندية:
قلنا: إن الأرض المشتركة بين اثنين إذا قسمت وفيها أشجار وزرع قسمت الأرض بدون الأشجار والزرع فوقع الأشجار والزرع في نصيب أحدهما فإن الذي وقع الأشجار والزرع في نصيبه يتملك نصيب صاحبه من الأشجار والزرع بالقيمة كذا في الذخيرة
(كتاب القسمة، الباب الثالث في بيان ما يقسم وما لا يقسم، 5/ 209 ط:دارالفكر)
لہٰذا زیر بحث صورت میں اگر بوقت فیصلہ درختوں کے بارے میں سکوت کیا گیا تھا تو اب تمام رقبہ میں موجود درختوں کا حساب کرلیا جائے، اگر دونوں کے رقبہ میں برابر آرہے ہیں تو فبھا، وگرنہ جس کے حصہ میں درخت زیادہ آئیں وہ دوسرے کو اس کے حصہ کے پیسے دے دے یا درخت کاٹ کر دےد ے۔
فقط واللہ اعلم
حوالہ: شرکت