فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

لاپتہ بہن کے ہوتے ہوئے وراثت کی تقسیم

فتویٰ نمبر 303202610170 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

لاپتہ بہن کے ہوتے ہوئے وراثت کی تقسیم

سوال
ایک شخص (خالد) کا ستمبر ۲۰۲۱؁ ء کو انتقال ہوا، ورثاء میں چار بیٹیاں(تین ایک بیوی سے ، ایک دوسری سے)، ایک بہن (جمیلہ)ہے۔۔۔ (بہن تقریباً ۱۲ سال سے لاپتہ ہے)۔۔۔ مرحوم کی تین پھوپھیاں، اور دو ماموں (جن میں سے ایک وفات پاگیا ہے) ہیں۔ مرحوم کے والدین اس کی زندگی میں ہی وفات پاگے تھے، نیز دونوں بیویوں کو تقریباً ۲۰۰۸؁ء میں ہی طلاق دے دی تھی۔مرحوم کا ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا؟ ہر ایک شرعی حصہ بتا دیں۔
جواب
مسئلہ بر تقدیرِ حی: مسئلہ3/12/3/12 مضروب4 خالد(متوفی) میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی لاپتہ بہن (جمیلہ)(حی)     2 -1 2 -2- 2 -2 -4 مسئلہ بر تقدیرِ میت: مسئلہ4/1/12 خالد(متوفی) میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی لاپتہ بہن (میت) ماموں و پھوپھیاں 1- 1- 1- 1 محروم محروم(لكونهم من ذوي الأرحام) 3 -3- 3- 3 مسئلہ منقح: مسئلہ12 خالد(متوفی) میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی  2- 2- 2- 2 حصص موقوفہ 1- 1- 1- 1 بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ خالد(مرحوم) کا کل ترکہ12حصے ہو کر ہر بیٹی کو اقل حصہ (یعنی دو) ملے گا، باقی ماندہ چارحصوں کو موقوف رکھا جائے گا تاوقتیکہ جمیلہ (بہن،جوکہ لاپتہ ہے) کی موت کا یقینی علم ہوجائے یا اس کے ہم عمر افراد فوت ہوں جائیں، اس مدت کے دوران وہ آجائے تو اپنا حصہ وصول کرے گی، اور نہ آنے کی صورت میں خالد(مرحوم) کی چاروں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک حصہ ملے گا۔ لما في بدائع الصنائع: وأما حكم ماله: فهو أنه إذا مضت من وقت ولادته مدة لا يعيش إليها عادة يحكم بموته (کتاب الفرائض، 6/ 197 ط:دارالکتاب الإسلامي) فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض