فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

زندگی میں فوت ہونے والی اولاد اور اس کے ورثاء کا ترکہ میں حصہ

فتویٰ نمبر 303202610168 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

زندگی میں فوت ہونے والی اولاد اور اس کے ورثاء کا ترکہ میں حصہ

سوال
میرے والد محترم کا انتقال ہوگیا ہے ، ورثاء میں دوبیٹے اور ايك بیٹی ہے۔ جبکہ بیوہ اور والدین کا انتقال پہلے ہی ہوچکا تھا۔ نیز دو بیٹوں اور ايك بيٹى کے علاوہ دو بیٹے اور ايك بيٹی مرحوم کی زندگی میں ہی فوت ہوگئے تھے، پہلا کنوارا تھا، جبکہ دوسرے کے ورثاء میں ایک بیوہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں،اور بیٹی لاولد تھیں۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں؟ جزاكم الله خيراً
جواب
مسئلہ5 حاجی خادم حسین(متوفی) میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بیٹا بیٹا بیٹی پہلے وفات پانے والے دو بیٹے و بیٹی محمد ہاشم محمدراشد روشن بی بی محمدعابد، محمدواجد، گلشن بی بی 2- 2- 1 محروم برتقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ حاجی خادم حسین کاکل ترکہ 5حصے ہو کر حسبِ تفصیل بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ پہلے فوت ہونے والے بیٹے بیٹیاں مرحوم کے ترکہ سے شرعاً محروم رہیں گے۔ لما في المبسوط للسرخسي: لِأَنَّ بَقَاءَ الْوَارِثِ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ شَرْطٌ لِوِرَاثَتِهِ عَنْهُ فَإِنَّ الْوِرَاثَةَ خِلَافَةٌ، وَالْحَيُّ يَخْلُفُ الْمَيِّتَ، فَأَمَّا الْمَيِّتُ فَلَا يَخْلُفُ الْمَيِّتَ (کتاب الفرائض، 11 / 43 ط: دارالمعرفة) ولما في رد المحتار: (قَوْلُهُ إنَّمَا يَكُونُ بَعْدَ الْمَوْتِ) لِأَنَّ كَوْنَهُمْ وَرَثَةً لَا يَتَحَقَّقُ إلَّا بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ (الرد مع الدر، کتاب الفرائض، 6 / 687 ط: دارالفكر) فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض