زندگی میں فوت ہونے والی اولاد اور اس کے ورثاء کا ترکہ میں حصہ
سوال
میرے والد محترم کا انتقال ہوگیا ہے ، ورثاء میں دوبیٹے اور ايك بیٹی ہے۔ جبکہ بیوہ اور والدین کا انتقال پہلے ہی ہوچکا تھا۔ نیز دو بیٹوں اور ايك بيٹى کے علاوہ دو بیٹے اور ايك بيٹی مرحوم کی زندگی میں ہی فوت ہوگئے تھے، پہلا کنوارا تھا، جبکہ دوسرے کے ورثاء میں ایک بیوہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں،اور بیٹی لاولد تھیں۔
ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں؟ جزاكم الله خيراً
جواب
مسئلہ5 حاجی خادم حسین(متوفی)
میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیٹا بیٹا بیٹی پہلے وفات پانے والے دو بیٹے و بیٹی
محمد ہاشم محمدراشد روشن بی بی محمدعابد، محمدواجد، گلشن بی بی
2- 2- 1 محروم
برتقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ حاجی خادم حسین کاکل ترکہ 5حصے ہو کر حسبِ تفصیل بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔
پہلے فوت ہونے والے بیٹے بیٹیاں مرحوم کے ترکہ سے شرعاً محروم رہیں گے۔
لما في المبسوط للسرخسي:
لِأَنَّ بَقَاءَ الْوَارِثِ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ شَرْطٌ لِوِرَاثَتِهِ عَنْهُ فَإِنَّ الْوِرَاثَةَ خِلَافَةٌ، وَالْحَيُّ يَخْلُفُ الْمَيِّتَ، فَأَمَّا الْمَيِّتُ فَلَا يَخْلُفُ الْمَيِّتَ
(کتاب الفرائض، 11 / 43 ط: دارالمعرفة)
ولما في رد المحتار:
(قَوْلُهُ إنَّمَا يَكُونُ بَعْدَ الْمَوْتِ) لِأَنَّ كَوْنَهُمْ وَرَثَةً لَا يَتَحَقَّقُ إلَّا بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ
(الرد مع الدر، کتاب الفرائض، 6 / 687 ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض