فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

وقف کی وصیت، بیٹے کو متولی مقرر کرنے اور اولاد کیلئے آمدنی میں حصہ رکھنے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 303202610165 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

وقف کی وصیت، بیٹے کو متولی مقرر کرنے اور اولاد کیلئے آمدنی میں حصہ رکھنے کا شرعی حکم

سوال
ایک محترمہ نے لاہور میں محترمہ نے ایک ایک دکان اور ایک مکان ایک دینی مدرسہ کو اپنی زندگی میں وقف کا وصیت نامہ لکھا، اس پر عملدرآمد کرانے اور انتطام و انصرام کیلئے اپنے بیٹےکو منتظم بنایااو اپنے بیٹے کی وفات کے بعد جامعہ کے مہتمم صاحب کو متولی مقرر کیا ہے۔نیزوقف کی آمدنی میں سے 1\3 ایک بیٹے اور 1\3 ایک بیٹی کو تاوقتیکہ وہ مالی طور پر مستحکم ہوجائیں، دینے کی وصیت کی ہے۔ بروئے شریعت بیٹے کو متولی مقرر کرنا اور مال موقوفہ میں اولاد کیلئے حصہ مقرر کرنا جائز ہے؟
جواب
اپنی املاک وقف کرنے کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ ہے کہ اپنی زندگی میں ہی وقف کردے، دوسری صورت یہ ہے کہ اپنی املاک کے بارے میں کہہ دے، یا لکھ دے کہ میرے مرنےکے بعد یہ وقف ہوگی، تو یہ بھی جائزہے اور وصیت کے احکام کے مطابق وقف ہوگا، یعنی کل ترکہ کے ایک تہائی تک نافذ ہوگا، اس سے زائد ہونے کی صورت میں ورثہ کی رضامندی سے وقف ہوگا۔ بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: إنما جاز مضافا إلى ما بعد الموت؛ لأنه لما أضافه إلى ما بعد الموت فقد أخرجه مخرج الوصية فيجوز كسائر الوصايا، لكن جوازه بطريق الوصية لا يدل على جوازه لا بطريق الوصية (كتاب الوقف، قبيل فصل في شرائط جواز الوقف، 6/ 219 ط: دارالكتاب الإسلامي) لہٰذا صورت مسئولہ میں محترمہ نے اپنے مرنے کے بعد اپنی بعض املاک کو وقف کیا ہے جوکہ اس کے کل ترکہ کے ایک تہائی سے کم ہے، اس لئے یہ بلاشبہہ وقف ہوگیا۔اور موقوفہ املاک کا متولی خود کو مقرر کرناجائز ہے ۔جیساکہ الاختيار لتعليل المختار میں ہے: ويجوز أن يجعل الواقف غلة الوقف أو بعضها له والولاية إليه (كتاب الوقف، 3/ 44 ط: مطبعة الحلبي) توبیٹے کو مقررکرنا بطریق اولی جائز ہوگا۔ کما فی رد المحتار: في جامع الفصولين من أنه لو شرط الواقف كون المتولي من أولاده وأولادهم ليس للقاضي أن يولي غيرهم بلا خيانة، ولو فعل لا يصير متوليا. اهـ (الرد مع الدر، کتاب الوقف، مطلب التولية خارجة عن حكم سائر الشرائط، 4/ 425 ط: دارالفكر) قلت: فعلم منه جواز جعل الواقف ابنه ناظرا نیز اس کی آمدنی میں سے کچھ بیٹے اور بیٹی کیلئے مقرر کرنا شرعاً درست ہوتا ہے۔جیساکہ المحيط البرهاني في الفقه النعماني میں ہے: وإذا وقف وقفاً موبداً واستثنى لنفسه أن ينفق من غلة هذا الوقف على نفسه وعياله وجهه ما دام حياً، حتى جاز الوقف والشرط جميعاً عند أبي يوسف، فإذا انقرضوا صارت الغلة للمساكين۔۔۔ وإذا وقف وقفاً وشرط لنفسه أن يأكل ويؤكل من أحب ما دام حياً، ثم من بعده على ولده وولد ولده ونسلهم أبداً ما تناسلوا، فإذا انقرضوا فهو على المساكين، فهو جائز عند أبي حنيفة، ولم يكن ذلك وصية للولد؛ لأن الولد يأكل من مال الله، ألا ترى أنه لو وقف على أولاده وأولاد أولاده أبداً ما تناسلوا وجعل آخره للفقراء يجوز ذلك هنا ذكره في «الأجناس» (كتاب الوقف، الفصل الرابع: فيما يتعلق بالشروط في الوقف، 6/ 122 ط: دار الكتب العلمية) الحاصل محترمہ کا مذکورہ وقف درست ہے،اور اس کیلئے بیٹے کو مقرر کرنا اور اس کی آمدنی کا کچھ حصہ اپنی اولاد کو محدود مدت تک دینے کی شرط لگانا بھی درست ہے۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: وصیت