فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

رہائش برقرار رکھتے ہوئے ہبہ کرنے کا حکم اور ایک تہائی ترکہ میں وصیت کی شرعی حیثیت

فتویٰ نمبر 303202610163 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

رہائش برقرار رکھتے ہوئے ہبہ کرنے کا حکم اور ایک تہائی ترکہ میں وصیت کی شرعی حیثیت

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ والدہ (سکینہ مائی) نے اپنی زندگی میں اپنے زیرِ رہائش حصہ کو اپنے بیٹے جمشید اقبال کے نام ھبہ کردیا اور اس پر اسٹام بھی لکھ دیا،لیکن اس پر تا زیست مرحومہ رہائش پذیر رہی، نیز ھبہ کی کاروائی کو صیغہِ راز رکھا گیا، وفات کے بعد اس کو ظاہر کیا گیا۔ آیا یہ حصہ جمشید اقبال کا شمار ہوگایا مرحومہ کے ترکہ میں شمار ہوگا؟ نیز اس ھبہ کے بارے میں رشتہ دار ڈاکٹر محی الدین بابر نے پوچھا کہ آپ نے اپنا حصہ بیٹے کو ھبہ کردیا ہے تو اس پر مرحومہ نے کہا کہ نہیں ، یہ مجھے میرے حصہ کے پیسے دے گا ،جوکسی مسجد یا مدرسہ میں خرچ کئے جائیں گے۔ ۲۔ مرحومہ نے وصیت کی تھی کہ میرے اس حصہ کے پیسے کسی مسجد یا مدرسہ میں خرچ کریں۔ آیا اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ اپنی مملوکہ چیز دوسرے کو گفٹ کرنے کو شرعاً ھبہ کہتے ہیں اور ھبہ کے تام و مکمل ہونے کیلئے کچھ شرائط ہیں، مثلا ً موھوبہ چیز غیر موھوبہ کے ساتھ مشغول نہ ہو، بلکہ اس سے خالی کرکے ھبہ کرنا ضروری ہے۔ جیساکہ تحفة الفقهاءمیں ہے: ومنها أن تكون الهبة متميزة عن غير الموهوب وغير متصلة به ولا مشغولة بغير الموهوب (كتاب الهبة، 3/ 162 ط: دار الكتب العلمية) اور المبسوط للسرخسيؒ میں ہے: لا يجوز فيهما؛ لأن الموهوب مشغول بما ليس بموهوب ۔۔۔۔ (كتاب الهبة، هبة العبد المأذون، 12/ 72 ط:دارالمعرفة) نیز مکان میں رہائش پذیر ہوتے ہوئے کسی کو ھبہ کردے تو مذكوره شرط کی وجہ سے یہ ھبہ تام نہیں ہوتا۔ چنانچہ مبسوط میں ہے: كما لو وهب دارا فيها متاع الواهب (لم يجز) (كتاب الهبة، هبة العبد المأذون، 12/ 72 ط:دارالمعرفة) نیز فتاوى الهندية میں ہے: ولو وهب دارا فيها متاع الواهب وسلم الدار إليه أو سلمها مع المتاع لم تصح (کتاب الهبة، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز، 4/ 380 ط:دار الفکر) نیز محيط برهاني میں ہے: إذا كان الواهب في الدار وكان فيها متاع الواهب أنه لا يجوز (كتاب الهبة، الفصل السادس: في الهبة من الصغير،6/ 252 ط: دار الكتب العلمية) صورتِ مسئولہ میں مرحومہ چونکہ تازیست اس حصہ میں رہائش پذیر رہی ، اس لئے یہ گفٹ (ھبہ) شرعاً تام (مکمل) نہیں ہوا،بلکہ مرحومہ کی ملکیت بدستور برقرار رہی، جو اب ان کے انتقال کے بعد ترکہ شمار ہوگا۔ ۲۔ باقی مرحومہ نے چونکہ اپنے حصہ کے بارے میں وصیت کی تھی تو ایسی صورت میں یہ وصیت مرحومہ کے کل ترکہ کے تہائی (تیسرے) حصے میں جبراً نافذ ہوگی ۔ البتہ اگر تمام ورثاء باہم رضامندی سے تمام ترکہ کو کسی مسجد یا مدرسہ میں دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔لیکن اگر وہ بخوشی اجازت نہ دیں یا بعض اجازت نہ دیں تو بقیہ دو تہائی حصے میں سے وہ اپنا شرعی حصہ وصول کرسکتے ہیں۔ لما في الدر المختار: (ثم) تقدم (وصيته۔۔۔ من ثلث ما بقي) بعد تجهيزه وديونه۔۔۔(ثم۔۔۔ يقسم الباقي) بعد ذلك (بين ورثته) أي الذين ثبت إرثهم بالكتاب أو السنة (الدر مع الرد، كتاب الفرائض، 6/ 760 ط:دارالفكر) ولما في الفتاوى الهندية: ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار (كتاب الوصايا، الباب الأول في تفسير الوصية، 6/ 90 ط:دارالفكر) فقط واللہ اعلم
حوالہ: حظر و اباحت