فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مسجد کے غسل خانے کو ذاتی استعمال کے لیے بند کرنے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 303202610162 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مسجد کے غسل خانے کو ذاتی استعمال کے لیے بند کرنے کا شرعی حکم

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسجد کے دو غسل خانے ہیں، جن میں سے ایک میں پانی کا نظم درست نہیں، جبکہ دوسرا غسل خانہ درست ہے، لیکن مسجد کے متولی صاحب نے اس میں اپنی بائیک کھڑی کرکے تالا لگا دیا ہے اور کسی کو اس کے استعمال کی اجازت نہیں دیتے۔جبکہ ان کا پرانا موٹرسائیکل بھی جوتیوں کی جگہ کھڑا ہے۔ غسل خانے کو کھولنے کا کہا جائے تو اپنا حق یاد کرواتے ہیں کہ میں مسجد کی بغیر کسی معاوضہ کے خدمت کرتا ہوں۔غسل خانہ بند ہونے کی وجہ سے معتکفین، تبلیغی جماعت، امام مسجد وغیرہ کو پریشانی ہوتی ہے۔ دریافت طلب یہ ہے کہ متولی ھذا کا یہ فعل شرعاً درست ہے یا اہلِ علاقہ کا ان سے غسل خانہ کھولنے کامطالبہ کرنا ؟
جواب
واضح رہے کہ مسجد کے واش روم، وضو خانہ، غسل خانہ اہل مسجد کے عام استعمال کیلئے وقف ہوتے ہیں۔ متولی کا کسی غسل خانے کو محض اپنی ذاتی بائیک یا ذاتی سامان رکھنےکیلئے بند کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔ بلكہ مسجد کے موقوفہ سامان کے بارے میں اتنی احتیاط کا حکم ہے کہ مسجد کا لالٹین وغیرہ تک گھر نہیں لے جاسکتے، بلکہ اگر کسی نے موم بتی دی اور وہ آدھی بچ گئی تو امام یا متولی اس کو اپنے گھر نہیں لے جاسکتا، إلا إذا کان العرف ذلک۔ اہلِ محلہ کا مطالبہ کرنا شرعاً درست ہے۔ لما في الاختيار لتعليل المختار: ولا يحمل سراج المسجد إلى بيته، ولا بأس بحملها من البيت إلى المسجد (كتاب الكراهية، فصل في آداب للمؤمن ينبغي أن يحافظ عليها، 4/ 168 ط:مطبعة الحلبي) ولما في الأشباه والنظائر لابن نجيمؒ: بعث شمعا في شهر رمضان إلى مسجد فاحترق، وبقي منه ثلثه أو دونه ليس للإمام ولا للمؤذن أن يأخذه بغير إذن الدافع، ولو كان العرف في ذلك كان له ذلك (الفن الأول: القواعد الكلية، القاعدة السادسة: العادة محكمة، المبحث الثاني: إنما تعتبر العادة إذا اطردت أو غلبت، ص: 81 ط:دارالكتب العلمية) هكذا في البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 270) بغیر معاوضہ کے خدمت کرنے کی وجہ سے متولی صاحب کو  اس بات کا جواز نہیں ملتا کہ مسجد کی وقف اشیاء کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا شروع کردے؛ متولی اگرتنخواہ  اور معاوضہ لینا چاہے تو مسجد کی کمیٹی کی منظوری سے  لے سکتا ہے۔ لیکن وقف کو ذاتی استعمال کیلئے روک کر نہیں رکھ سکتا۔  فقط واللہ اعلم
حوالہ: حظر و اباحت