فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

ایک، دو، تین کہنے سے کتنی طلاق واقع ہوتی ہے؟

فتویٰ نمبر 227202610159 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

ایک، دو، تین کہنے سے کتنی طلاق واقع ہوتی ہے؟

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص(زید) نے بیوی کے چچازاد سے کہا:"میری بیوی مجھ سے فارغ ہے اور اس کو ایک دو تین طلاق" جبکہ بیوی حاملہ ہے۔آیا کتنی طلاقیں واقع ہوچکی ہیں؟ رجوع کی کیا صورت ہے؟
جواب
بر تقديرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں زید کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے؛کیونکہ ایک، دو ، تین کا موصوف طلاق ہے۔ (خیر الفتاوی جلد6/ص111 ط:امدادیہ)لہٰذا اب نہ رجوع جائز ہے، نہ عقدِ جدید کافی ہے اور نہ ہی دوبارہ آباد وہوسکتے ہیں۔ لقوله تعالى: فان طلقها فلا تحل له من بعد۔۔۔ (البقرة:230)۔ ولما في الهداية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها (كتاب الطلاق، 2/258، 257 ط: دار احياء التراث العربي) فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق