قرض دار شخص کے لیے زکوٰۃ لینے کا شرعی حکم
سوال
من مقر(محمد خالد) کرایہ کے مکان میں رہتا ہے۔ بیوی فوت ہوچکی ہے۔ پانچ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ میرے پاس کوئی سونا، چاندی ، ذاتی جائیداد، جمع پونجی کچھ نہیں ہے۔بچوں کے تعلیمی اخراجات، مکان کا کرایہ ، کھانے پینے کے اخراجات کے علاوہ میرے اوپر 110،000 روپے قرض ہے۔ میری ماہانہ آمدنی تقریباً 42،000 روپے ہے، جس سے تمام اخراجات، کرایہ کے بعد قرض ادا نہیں ہوسکتا۔ اس بارےمیں مجھے بہت پریشانی رہتی ہے کہ زندگی موت کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ آیا میں قرض کی ادائیگی کیلئے زکوۃ کی رقم لے سکتا ہوں؟
جواب
زکوۃ و عشر وغیرہ اس شخص کیلئے لینا جائز ہے جو نصاب(یعنی کم از کم ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کے بقدر رقم یا ضرورت سے زائد اشیاء اتنی مالیت کی ہوں) کا مالک نہ ہو۔ لہذا سائل کے تحقیق ِ حال سے یہی بات معلوم ہوجائے کہ یہ نصاب کا مالک نہیں ہے تو اس کو زکوۃ و عشر وغیرہ دینا شرعاً درست ہیں۔ پھر یہ اس رقم کو اپنی ضروریات میں خرچ کرے يا قرض ادا كرے ، بہرصورت شرعاً درست ہے۔
لما في الدر المختار:
مصرف الزكاة والعشر۔۔۔ (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة
(الدرمع الرد، كتاب الزكوة، 2/ 339 ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: زکات