فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

قرض دار شخص کے لیے زکوٰۃ لینے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 227202610157 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

قرض دار شخص کے لیے زکوٰۃ لینے کا شرعی حکم

سوال
من مقر(محمد خالد) کرایہ کے مکان میں رہتا ہے۔ بیوی فوت ہوچکی ہے۔ پانچ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ میرے پاس کوئی سونا، چاندی ، ذاتی جائیداد، جمع پونجی کچھ نہیں ہے۔بچوں کے تعلیمی اخراجات، مکان کا کرایہ ، کھانے پینے کے اخراجات کے علاوہ میرے اوپر 110،000 روپے قرض ہے۔ میری ماہانہ آمدنی تقریباً 42،000 روپے ہے، جس سے تمام اخراجات، کرایہ کے بعد قرض ادا نہیں ہوسکتا۔ اس بارےمیں مجھے بہت پریشانی رہتی ہے کہ زندگی موت کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ آیا میں قرض کی ادائیگی کیلئے زکوۃ کی رقم لے سکتا ہوں؟
جواب
زکوۃ و عشر وغیرہ اس شخص کیلئے لینا جائز ہے جو نصاب(یعنی کم از کم ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کے بقدر رقم  یا ضرورت سے زائد اشیاء اتنی مالیت کی ہوں) کا مالک نہ ہو۔ لہذا سائل کے تحقیق ِ حال سے یہی بات معلوم ہوجائے کہ یہ نصاب کا مالک نہیں ہے تو اس کو زکوۃ و عشر وغیرہ دینا شرعاً درست ہیں۔ پھر یہ اس رقم کو اپنی ضروریات میں خرچ کرے يا قرض ادا كرے ، بہرصورت شرعاً درست ہے۔ لما في الدر المختار: مصرف الزكاة والعشر۔۔۔ (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة (الدرمع الرد، كتاب الزكوة، 2/ 339 ط: دارالفكر) فقط واللہ اعلم
حوالہ: زکات