مسجد میں قرآنِ کریم کی کلاس اور فیس لینے کا شرعی حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن مجید کی حفظ و ناظرہ کی کلاس مسجد میں شروع کررہے ہیں۔ بچوں سے قرآن کریم کی تعلیم پر فیس لینا قاری صاحب کی تنخواہ اور مسجد کے بِل کیلئے، ایسا کرنا شرعاً جائز ہے؟
جواب
کوشش کی جائے کہ بچوں کو مسجد کے بجائے قریبی دوسری متبادل جگہ پر قرآن کریم پڑھایا جائے۔ لیکن اگر مجبوری ہو کہ دوسری جگہ دستیاب نہیں ،تو ایسی صورت میں مسجد میں اجرت لیکر پڑھانے کی گنجائش کی صورت یہ ہے کہ قاری صاحب خود بچوں سے فیس نہ لیں، بلکہ انتظامیہِ مسجد فیس لے ، پھر وہ اس کو اساتذہ کی تنخواہ اور بجلی کے بِل وغیرہ کی مد میں خرچ کرے۔
ولما في فتاوى قاضي خان:
ويكره أن يخيط في المسجد لأنه أعد للعبادة دون الاكتساب وكذا الوراق والفقيه إذا كتب باجرة أو معلم إذا علم الصبيان باجرة. وإن فعلوا بغير أجر فلا بأس به
(كتاب الطهارة، فصل في المسجد، قبيل كتاب الصلاة، 1/ 31، ط:رشيديه)
هكذا في تبيين الحقائق مع حاشية الشلبي (1/ 352 ط:دارالكتاب الإسلامي)
ولما في الفتاوى الهندية:
وأما المعلم الذي يعلم الصبيان بأجر إذا جلس في المسجد يعلم الصبيان لضرورة الحر أو غيره لا يكره
(كتاب الصلاة، قبيل الباب الثامن في صلاة الوتر، 1/ 110 ط:دارالفكر)
ولما في الفتاوى البزازية:
معلم الصبيان بأجر لو جلس فيه لضرورة الحر لا بأس به وكذا التعليم إن بأجر كره إلا لضرورة وإن لا لا
(البزازية، كتاب الصلاة، قبيل كتاب الزكوة، 1/ 39)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: علوم و فنون