فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

وارثین میں تقسیم اور زیورات کی وصیت کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 225202610154 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

وارثین میں تقسیم اور زیورات کی وصیت کا شرعی حکم

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری والدہ (زبیدہ بی بی) کا انتقال ہوچکا ہے، ورثاء میں شوہر(محمد اقبال)، ایک حقیقی بیٹی(طیبہ) ،دو حقیقی بیٹے(خالد،طارق) ، دو سوتیلی بہنیں(طاہرہ،سعیدہ) ہیں، جو محمد اقبال کی دوسری بیوی (خدیجہ ) کے بطن سے ہیں۔ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔ 2۔ مرحومہ نے کچھ طلائی زیورات کے متعلق زبانی کہا تھا کہ:"اگر مجھے کچھ ہوجائےتو یہ زیورات انہی(طوبی دخترطیبہ،عمارہ دختر طاہرہ) کے ہیں، ان کو دے دینا"۔ ان زیورات کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب
مسئلہ4/20 مضروب5 زبیدہ بی بی (متوفیہ) میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ شوہر- حقیقی بیٹا- حقیقی بیٹا- حقیقی بیٹی - سوتیلی بیٹی - سوتیلی بیٹی محمداقبال خالد طارق طیبہ سعیدہ طاہرہ 1 -3- محروم - محروم 5 - 6 - 6 - 3 بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد از ادائے قرض و وصیتِ جائزہ زبیدہ(مرحومہ) کا کل ترکہ 20حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ 2۔ مرحومہ کی وصیت چونکہ غیر ورثاء کیلئے ہے، اس لئے شرعاً معتبر ہے، لہٰذا اگر یہ زیورات کل ترکہ کے تہائی سے کم مالیت کے ہیں تو انہی کو ملیں گے، لیکن اگر زیورات کی مالیت کل ترکہ کے تہائی سے زیادہ ہے تو تہائی مالیت تک انہی بچیوں کو ملے گا، بقیہ ورثاء کا حق ہے۔ البتہ اگر ورثاء اپنی رضامندی سے انہی بچیوں کو تمام زیور دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔ لما في الدر المختار: (وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه۔۔۔ (الدر مع الرد، كتاب الوصايا، 6/ 650 ط:دارالفكر) فقط واللہ اعلم
حوالہ: وصیت