فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

موبائل پیغام سے طلاق: فقہی موقف

فتویٰ نمبر 225202610153 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

موبائل پیغام سے طلاق: فقہی موقف

سوال
مجھے(مدثرہ مظہر) میرے شوہر (ماجد حسین عابد) نے واٹس ایپ پر میسج کیا کہ: "ماجد تجھے لینے آئے، ماجد، کبھی خواب میں بھی مت سوچنا۔ اب تم میرے لئے حرام ہو"(رومن اردو میں لکھا) آیا اس سے طلاق تو واقع نہیں ہوئی؟جبکہ شوہر کہتے ہیں کہ میں غصہ میں تھا، میری طلاق دینے کی نیت نہ تھی۔ نیز اس واقعہ سے قبل دو متعدد موقعوں پر شوہر مجھے لفظ طلاق سے طلاق دے چکے ہیں(ایک اپنے گھر میرے سامنے ، دوسری میرے بھائی کو کال پر)۔جبکہ شوہر ان کا سرے سے انکار کرتا ہے۔ ہم اکھٹے رہنا چاہتے ہیں۔ نوٹ: شوہر کے خط کشیدہ الفاظ سائلہ کے موبائل پر بھیجے گئے پیغام کو دیکھ کر لکھے گئے ہیں۔
جواب
واضح رہے کہ ماجدحسین عابد (شوہر)کے خط کشیدہ الفاظ ادا کرنے کی وجہ سے طلاق دینے کی نیت نہ ہوتب بھی سائلہ (مدثرہ مظہر) پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے۔ لما في رد المحتار: أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية (الدر مع الرد، كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، 3/ 252 ط:دارالفكر) غصے میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، چنانچہ عمدۃ القاری میں ہے: أما حكم الطلاق في الغضب فإنه يقع (كتاب التفسير، باب الطلاق في الإغلاق والكره ۔۔۔ الخ، 20/ 251 ط: دار إحياء التراث العربي) چونکہ سائلہ اس سے قبل ایک طلاق خود اپنے کانوں سے سن چکی ہے اور ایک طلاق عادل آدمی(بھائی) کی خبر سے معلوم کرچکی ہے، اس لئے  اب اس کیلئے اپنے شوہر (ماجد حسین عابد) کے ساتھ آباد ہونا شرعاً جائز نہیں ہے۔ لما في الفتاوى الهندية: والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك (كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل الأول في الطلاق الصريح، 1/ 354 ط: دارالفكر) فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق