فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

وراثتی زمین میں بھائی اور بہنوں کے حقوق — سگی اور سوتیلی بہنوں کی زمین کی تقسیم

فتویٰ نمبر 225202610150 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

وراثتی زمین میں بھائی اور بہنوں کے حقوق — سگی اور سوتیلی بہنوں کی زمین کی تقسیم

سوال
ہم تین بھائی اور سات بہنیں ہیں، جن میں سے ایک بہن کا انتقال ہوچکا ہے، میرا اور میرا بھائی مبین سگے بھائی جبکہ خان افضل خان میرا سوتیلا بھائی ہے۔۔۔ والد کے انتقال کے بعد وراثت کی تقسیم ہوئی، جس میں ہماری چھ بہنوں(جو ہماری سگی بہنیں تھیں)جائیداد میں اپنا برابر اور پورا حصہ ملا، جو انھوں نے اپنی مرضی سے میرے چھوٹے بھائی مبین کے نام کروا دیا۔۔۔ باقی ایک سوتیلی بہن کو بھی اس کو اپنا حصہ مل گیا ، جو ابھی بھی اس کے قبضہ میں ہے۔۔۔ میری والدہ نے بھی اپنا حصہ اپنے چھوٹے بیٹے مبین کو دے دیا، جس پر میرا بھی حق تھا؛کیونکہ وہ میری بھی سگی ماں تھیں، لیکن ماں نے مجھے اپنے حصہ میں سے زمین نہ دی، جس کی وجہ یہ تھی کہ میری نرینہ اولاد نہیں ہے، اور میری بہنوں نے بھی یہی کہا۔۔۔ اگرآپ کا بیٹا ہوتا تو ہم اپنی جائیدادوں آپ کو مبین کے برار حصہ دیتے۔ الحمدللہ اللہ تعالیٰ نے مجھے چار بیٹیاں عطا کی ہیں، جو بیٹوں سے کم نہیں ہیں۔۔۔ جب جائیداد کی تقسیم ہوئی تو اس میں دو قسم کی زمین تھی، ایک زیادہ قیمتی تھی، جو آبادی کے زیادہ قریب ہے، جس کی مالیت دوسرے سے کافی زیادہ ہے، جبکہ دوسری زمین آبادی سے دور ہے، جس کی قیمت اس رقبہ سے کافی کم ہے۔۔۔ میں چونکہ محنت مزدوری کرتا تھا، اکثر گاؤں سے باہررہتا تھا۔۔۔ تقسیم کے وقت میری ماں نے مجھے بلایا اور کہا: "بیٹا تم نے زمین خود کاشت نہیں کرنی، بلکہ ٹھیکہ پر دینی ہے، تو تم ایک ہی جگہ زمین لے لو، تاکہ آسانی سے ٹھیکہ پر دے سکو۔۔۔ اور گاؤں کے قریب والی زمین مبین کاشت کر رہا ہے تو اس کو ہی کاشت کرنے دو، اس میں تمہارے لئے آسانی ہوگی، جب آپ کو ضرورت ہوگی، بھائی سے لے لینا، ابھی اسی کو کاشت کرنے دو"۔۔۔میں نے ماں کو جواب دیا کہ ٹھیک ہے، بھائی یہاں کاشت کرے ، میں وہی سے زمین ٹھیکہ پر دے دیا کروں گاجو ابھی تک میں ٹھیکے پر دے رہا ہوں، لیکن گاؤں والی زمین سے مکمل دستبرداری کا نہ میں نے کہا تھا اور نہ ہی کوئی یہ حق مجھ سے چھین سکتا ہے؛ کیونکہ تقسیم کے وقت میری سات بہنوں کو گاؤں کے قریب والی زمین سے برابر حصہ ملا، جو اس وقت مبین کے پاس ہے۔۔۔ اور ان میں ایک ہماری سوتیلی بہن ہے، وہ بھی اپنا گاؤں کی قیمتی زمین سے اپنا حصہ لے چکی ہے۔۔۔ میرا تیسرا سوتیلا بھائی (خان افضل خان) بھی گاؤں کی قیمتی زمین سے اپنا حصہ لے چکا ہے۔۔۔ اب جب مبین گاؤں والی زمین فروخت کرنے لگا تو میں نے اس سے مطالبہ کیا کہ مجھے گاؤں والی زمین سے اپنا حصہ دے دو تو اس نے جواب دیا کہ "آپ نے خود یہ زمین مجھے دی ہے، لہٰذا اب آپ کا حق نہیں بنتا، میں آپ کو یہ زمین نہیں دوں گا، جو کرنا ہے، کرلو"جب میں نے اپنی بہنوں اور رشتہ داروں کے ذریعے مبین سے اپنے حق کا مطالبہ کیا تو جواب میں مبین نے کہا کہ "اگر میرا بھتیجا ہوتا تو میں اس کو گاؤں والی قیمتی زمین میں ضرور حصہ دیتا، بلکہ حصہ سے بھی بڑھ کر دیتا، مگر چونکہ میرے بھائی کی نرینہ اولاد نہیں ہے،اس لئے میں اس کو اس زمین میں سے حصہ ہر گز نہیں دوں گا" حالانکہ قرآن و سنت میں ایسی بات کی کوئی گنجائش نہیں۔۔۔ اللہ تعالیٰ قادر ذات ہے،جسے چاہے بیٹا دے، جسے چاہے بیٹی دے۔ مبین نے مجھے نمبر دار کے ڈیڑے پر بھرے مجمع میں کہا تھا کہ "میں آپ کو یہاں سے حصہ نہیں دوں گا، کیونکہ آپ کی نرینہ اولاد نہیں ہے اور تمہیں اس کی ضرورت نہیں ہے، یہ جائیداد تمہاری بیٹیوں کے پاس جائے گی" میں اپنا قانون اور شرعی حصہ مانگ رہا ہوں، نیز میں نے مبین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی، جس پر الحمد للہ تحصیلدار میاں چنوں نے میرے حق میں فیصلہ دیا ہے(فیصلے کی کاپی ساتھ لف ہے) ،مگر بھائی مبین اپنی ضد پر قائم ہے کہ میں نے زمین نہیں دینی، اس نے مجھے خود دی ہے، اب یہ حقدار نہیں ہے، حالانکہ اس کے پاس کوئی تحریری ثبوت بھی نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی گواہ ہے۔۔۔جو بات میرے اور میری والدہ صاحبہ کے درمیان ہوئی، وہی حقیقت ہے۔۔۔ نیز تبادلے کا معاملہ عارضی تھا، مستقل نہ تھا۔ واضح رہے کہ بھائی مبین نے کہا ہے کہ آپ فتوی لے آؤ، اگر شریعتِ مطہرہ آپ کو گاؤں کے قریب والی زمین دیتی ہے تو میں زمین تمہارے حوالہ کردوں گا، اور اس پر دوگواہ (محمد فہیم ولد غلام اکبر ایڈوکیٹ، محمد زاہد ولد شہزاد میر خاں) بھی موجود ہیں۔۔۔ ۱ ) اس معاملہ میں ہماری شرعی رہنمائی کردیں۔ ۲) اولاد نرینہ نہ ہونے کی بناء بہنوں کا سارا حصہ مبین کو دے دینا شرعاً کیسا ہے؟آیا عنداللہ ان کا یہ فعل درست ہے؟
جواب
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت ِ مسئولہ میں مبین خان مدعی ہے کہ احمد شیر (بھائی) نے گاؤں كےقریبی زمین کا تبادلہ دور والی سے مستقل طور کیا تھا، جبکہ احمد شیر اس کا انکاری ہے، لہٰذا مبین خان کے ذمہ شرعاً لازم ہے کہ وہ اپنی بات کو شرعی گواہان سے یا کسی اسٹام کی تحریر سے ثابت کرے۔۔۔ جبکہ اس کے پاس نہ شرعی گواہان موجود ہیں، اور نہ ہی کوئی تحریری ثبوت موجود ہے۔لہٰذا زیرِ بحث صورت میں زیادہ سے زیادہ احمد شیر سے قسم لی جاسکتی ہے۔ اصولی طور پر جب دونوں زمین وراثتی ہیں تو دونوں جگہوں پر دونوں فریقوں کا حصہ ہوگا، نیز تحصیلدار میاں چنوں نےجب دونوں فریقوں کا موقف سننے کے باوجود احمد شیر کے حق میں فیصلہ دے دیا،تو اب مبین خان کا ٹال مٹول سے کام لینا شرعاً جائز نہیں، بصورتِ دیگر وہ غاصب شمار ہوگااور غاصب کے بارے میں حدیث شریف میں بڑی سخت وعید آ ئی ہےکہ جو شخص کسی کی ایک بالشت زمین بھی غصب کرلیتا ہے تو قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق (بنا کر)اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ عن سالم، عن أبيه رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «من أخذ من الأرض شيئا بغير حقه خسف به يوم القيامة إلى سبع أرضين» (صحيح البخاري، كتاب المظالم والغصب، باب إثم من ظلم شيئا من الأرض، 3/ 130 ط: دار طوق النجاة) ۲) باقی بہنوں کا اپنا حصہ صرف مبین خان کو دینااور شیر احمد کو نہ دینا حق تلفی ہے، خصوصاً اس عذر پر ایسا کرنا کہ احمد شیر کی صرف بیٹیاں ہیں کوئی بیٹا نہیں ہے، بالکل لچر بات ہے، بلکہ اس صورت میں تو احمد شیر زیادہ امداد کا مستحق ہے ؛کیونکہ جس کا بیٹا ہو تو وہ کام کاج کر کے والد کا معاون بن سکتا ہے، بخلاف بیٹیوں کےکہ وہ ایسا نہیں کرسکتیں۔۔۔ لہٰذا بہنوں کوچاہیے کہ وہ اپنے اس غلط و خلافِ شرع فعل کے ازالہ کی فکر کریں۔ نیز صوررتِ مسئولہ میں بہنوں کا مبین خان کے نام زمین کردینے سے بھی مبین خان اس زمین کا مالک نہیں بنا؛کیونکہ مشترکہ قابلِ تقسیم چیز کا شریک کو ھبہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ حصہ متعین کرنے کے بعد دئیے جائیں،جبکہ زیرِ بحث صورت میں حصے الگ الگ کئے بغیر تملیک کئے گئے؛ کیونکہ سب بہنوں کی زمین پہلے سے مبین خان کے قبضہ میں تھی۔ لما في فتاوى قاضيخان: رجل وهب نصيبه مما يقسم كالدار والأرض والمكيل والموزون من غير شريكه لا يجوز عند الكل وإن وهب من شريكه لا يجوز عندنا (خانية مع الهندية، كتاب الهبة، 3/ 146 ط:رشيدية) ولما فی في الهداية: "ولو وهب من شريكه لا يجوز"؛ لأن الحكم يدار على نفس الشيوع (كتاب الهبة، 3/ 223 ط: دار احياء التراث العربي) الحاصل شرعی ضابطہ سے مبین خان بہنوں والی زمین کا شرعاً مالک نہیں بنا، بلکہ وہ زمین واپس لے کر احمد شیر کا حصہ اسے دے سکتی ہیں۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: غصب