فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

والد مرحوم کی وراثت — بیوہ، بیٹے، بیٹیاں اور وفات پانے والے بیٹے کے حصص

فتویٰ نمبر 225202610149 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

والد مرحوم کی وراثت — بیوہ، بیٹے، بیٹیاں اور وفات پانے والے بیٹے کے حصص

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب انتقال کرگئے ہیں۔ ورثاء میں ایک بیوہ، 5 بیٹےاور 6 بیٹیاں ہیں۔ ان 5 بیٹوں میں سے ایک غیر شادی شدہ بیٹا والد کے بعد وفات پاگیا ہے۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔
جواب
مسئلہ8/128/768 مضروب16 والد(متوفی) میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بیوہ بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا وفات پانے والابیٹا 1---- 7 16---- 7---- 7 ----7---- 7---- 7 ----7---- 14---- 14---- 14 ----14 96---- 42---- 42---- 42 ----42 ----42---- 42---- 84---- 84 ----84---- 84 مسئلہ6/84/6 مضروب14 توافق بجزء من اربعۃ عشر بیٹا(متوفی)مف14/1 میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ والدہ بہن بہن بہن بہن بہن بہن بھائی بھائی بھائی بھائی 1---- 5 14---- 5---- 5---- 5 ----5---- 5---- 5---- 10 ----10 ----10---- 10 تصحیح 768 المبلــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــغ الأحيـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاء بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیوہ   94---- 94---- 94---- 94---- 47---- 47 ----47 ----47---- 47---- 47---- 110 بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ مرحوم کا کل ترکہ 768حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ اگر وفات پانے والے کا ترکہ تقسیم کرنا ہے تو کل ترکہ 84 حصے ہوکر 14 حصے والدہ کو، 5 حصے ہر بہن کو اور 10 حصے ہر بھائی کو ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض