فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مرحوم کی وراثت — بیوہ، بیٹیاں اور بیٹوں کے شرعی حصص

فتویٰ نمبر 225202610148 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مرحوم کی وراثت — بیوہ، بیٹیاں اور بیٹوں کے شرعی حصص

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد (سید مشتاق علی) کا انتقال ہوچکا ہے۔ ورثاء میں ایک بیوہ، 5 بیٹیاں اور 3 بیٹے تھے، جن میں سے ایک بیٹا مرحوم کی زندگی میں ہی انتقال کرگیا تھا، اس بیٹے کے ورثاء میں ایک بیٹا اور بیوی ہیں۔ اب 2 بیٹے حیات ہیں۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتادیں۔جزاکم اللہ خیراً
جواب
الجواب حامدًا ومصليًا مسئلہ8/72 مضروب 9 سید مشتاق علی(متوفی) میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بیوہ--- بیٹی--- بیٹی--- بیٹی--- بیٹی ---بیٹی--- بیٹا--- بیٹا---پہلے سے فوت شدہ بیٹا 1--------- 7 --------- محروم 9--- 7--- 7 ---7 ---7--- 7--- 14--- 14---محروم بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ حاجی محمد یوسف(مرحوم) کا کل ترکہ 72حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض