فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

والد اپنی مملوکہ زمین بیٹے کی اجازت کے بغیر فروخت کرسکتا ہے۔

فتویٰ نمبر 225202610147 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

والد اپنی مملوکہ زمین بیٹے کی اجازت کے بغیر فروخت کرسکتا ہے۔

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنے والد کی زمین پر ظاہراً قبضہ کر رکھا ہے، جبکہ کاغذات میں قبضہ والد کے پاس ہے۔ اور والد زمین بیچ کر کسی دوسرے کاروبار میں پیسے صرف کرنا چاہتا ہے۔ واضح رہے کہ والد افریقہ کے ملک میں رہتا ہے اور بیٹا پاکستان میں رہتا ہے۔ والد صحت مند ہے اور تقریباً ۶۵ برس کا ہے۔آیا والد کو شریعت اجازت دیتی ہے کہ وہ بیٹے کی اجازت کے بغیر اپنی زمین بیچ دے؟
جواب
برتقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں والد کیلئے شرعاً جائز ہے کہ وہ اپنی زمین بیچ کر دوسرے کاروبار میں پیسے لگا سکتا ہے۔ کیونکہ زندگی اور صحت کی حالت میں ہر شخص اپنی جائیداد کا خود مالک ہے کسی بیٹے /بیٹی یا دیگر کسی وارث کا اس کی جائیداد کے ساتھ کوئی حق متعلق نہیں ، نہ کوئی مطالبہ کرسکتاہے ، اور نہ ہی والد کو اپنی جائیداد میں تصرف کیلئے کسی بیٹے کی اجازت کی ضرورت ہے۔ مجلة الأحكام العدلية (ص: 230) كل يتصرف في ملكه كيفما شاء (الكتاب العاشر: في الشركات، الباب الثالث: في بيان المسائل المتعلقة بالحيطان والجيران، الفصل الأول: في بيان بعض قواعد أحكام الأملاك، المادة:1192 ط:نور محمد) فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض