لاولد شخص کی وفات پر بیوہ، بہنوں اور چچازاد بھائیوں میں وراثت کی تقسیم
سوال
محمد محمود کا انتقال ہوچکا ہے، ورثاء میں ایک بیوہ، چھ بہنیں، سات چچا زاد بھائی اور چند چچازاد بہنیں ہیں۔۔۔ مرحوم لاولد تھا، والدین کا انتقال اس کی حیاتی میں ہی ہوگیا تھا۔مرحوم کا کوئی بھائی نہیں تھا، البتہ دو چچا تھے، جو مرحوم سے پہلے فوت ہوگئے، ایک سے تین بیٹے اور دوسرے سے چار بیٹے ہیں، اور بیٹیاں بھی ہیں۔۔۔ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔
جواب
مسئلہ12/252 مضروب21 محمد محمود(متوفی)
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ ---- چھ بہنیں ---- سات چچازادبھائی ---- چچازاد بہنیں
3 ---- 8 ---- 1 ---- محروم
63 ------ 168 ------- 21
فی بہن=28 حصے
فی چچازاد بھائی=3حصے
چچا زا بہنیں= محروم
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ حاجی محمد حبیب(مرحوم) کا کل ترکہ 252حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔
چچازاد بہنیں مرحوم کے ترکہ سے شرعاً محروم رہیں گی؛ کیونکہ وہ ذوی الارحام میں سے ہیں۔
فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض