فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

لاولد شخص کی وفات پر بیوہ، بہنوں اور چچازاد بھائیوں میں وراثت کی تقسیم

فتویٰ نمبر 223202610144 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

لاولد شخص کی وفات پر بیوہ، بہنوں اور چچازاد بھائیوں میں وراثت کی تقسیم

سوال
محمد محمود کا انتقال ہوچکا ہے، ورثاء میں ایک بیوہ، چھ بہنیں، سات چچا زاد بھائی اور چند چچازاد بہنیں ہیں۔۔۔ مرحوم لاولد تھا، والدین کا انتقال اس کی حیاتی میں ہی ہوگیا تھا۔مرحوم کا کوئی بھائی نہیں تھا، البتہ دو چچا تھے، جو مرحوم سے پہلے فوت ہوگئے، ایک سے تین بیٹے اور دوسرے سے چار بیٹے ہیں، اور بیٹیاں بھی ہیں۔۔۔ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔
جواب
مسئلہ12/252 مضروب21 محمد محمود(متوفی) میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بیوہ ---- چھ بہنیں  ---- سات چچازادبھائی ---- چچازاد بہنیں  3 ---- 8 ---- 1 ----  محروم  63 ------ 168 ------- 21    فی بہن=28 حصے فی چچازاد بھائی=3حصے چچا زا بہنیں= محروم بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ حاجی محمد حبیب(مرحوم) کا کل ترکہ 252حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ چچازاد بہنیں مرحوم کے ترکہ سے شرعاً محروم رہیں گی؛ کیونکہ وہ ذوی الارحام میں سے ہیں۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض