فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

سوتیلی بیٹی، بیوہ اور سگے بھائیوں میں وراثت کی تقسیم ، لے پالک اولاد کا حکم

فتویٰ نمبر 223202610143 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

سوتیلی بیٹی، بیوہ اور سگے بھائیوں میں وراثت کی تقسیم ، لے پالک اولاد کا حکم

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے جمیلہ سے شادی کی، ایک بیٹی(کرن) پیدا ہوئی، پھر اسے طلاق دے دی، پھر ناصرہ سے شادی کی، لیکن اولاد نہ ہوئی، زید نے ایک بچہ (حامد) اور بچی(فروہ) گود لیکر پالے۔اب زید کا انتقال ہوچکا ہے۔ ورثاء میں ایک بیوہ(ناصرہ)، ایک بیٹی(کرن ) ،2 بھائی(جمال، کمال) اور لے پالک بیٹا و بیٹی ہیں۔ مرحوم کے والدین کا انتقال انکی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ مرحوم کے دو بھائیوں کے علاوہ مزید بہن بھائی نہیں ہیں۔ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔
جواب
مسئلہ8/16 مضروب2 زید(متوفی)   میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ   بیوہ بیٹی بھائی بھائی لےپالک بیٹاوبیٹی   ناصرہ کرن جمال کمال حامدو فروہ   1 4 3 محروم   2 8 3 3   برتقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ازادائے قرض و وصیتِ جائزہ زید(مرحوم)كا کل ترکہ 16 حصے ہو کر حسبِ تفصیل بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔   لے پالک بیٹا وبیٹی مرحوم کے ترکہ سے شرعاً محروم رہے گا؛کیونکہ وراثت کا حقدار نسب یا زوجیت کی وجہ سے ہوتا ہے۔البتہ اگر ان کیلئے کوئی وصیت کی گئی تو بتا کر مسئلہ پوچھ لیا جائے۔   لما في الفتاوى الهندية:   ويستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والولاء   (کتاب الفرائض، 6 / 447 ط: دارالمعرفة) فقط واللہ اعلم
حوالہ: اجارہ