سوتیلی بیٹی، بیوہ اور سگے بھائیوں میں وراثت کی تقسیم ، لے پالک اولاد کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے جمیلہ سے شادی کی، ایک بیٹی(کرن) پیدا ہوئی، پھر اسے طلاق دے دی، پھر ناصرہ سے شادی کی، لیکن اولاد نہ ہوئی، زید نے ایک بچہ (حامد) اور بچی(فروہ) گود لیکر پالے۔اب زید کا انتقال ہوچکا ہے۔ ورثاء میں ایک بیوہ(ناصرہ)، ایک بیٹی(کرن ) ،2 بھائی(جمال، کمال) اور لے پالک بیٹا و بیٹی ہیں۔ مرحوم کے والدین کا انتقال انکی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ مرحوم کے دو بھائیوں کے علاوہ مزید بہن بھائی نہیں ہیں۔ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔
جواب
مسئلہ8/16 مضروب2 زید(متوفی)
میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ بیٹی بھائی بھائی لےپالک بیٹاوبیٹی
ناصرہ کرن جمال کمال حامدو فروہ
1 4 3 محروم
2 8 3 3
برتقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ازادائے قرض و وصیتِ جائزہ زید(مرحوم)كا کل ترکہ 16 حصے ہو کر حسبِ تفصیل بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔
لے پالک بیٹا وبیٹی مرحوم کے ترکہ سے شرعاً محروم رہے گا؛کیونکہ وراثت کا حقدار نسب یا زوجیت کی وجہ سے ہوتا ہے۔البتہ اگر ان کیلئے کوئی وصیت کی گئی تو بتا کر مسئلہ پوچھ لیا جائے۔
لما في الفتاوى الهندية:
ويستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والولاء
(کتاب الفرائض، 6 / 447 ط: دارالمعرفة)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: اجارہ