فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مرض الوفات میں قرض معاف کرنے کی وصیت — کیا ورثاء پورا قرض وصول کرسکتے ہیں؟

فتویٰ نمبر 223202610141 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مرض الوفات میں قرض معاف کرنے کی وصیت — کیا ورثاء پورا قرض وصول کرسکتے ہیں؟

سوال
ایک شخص نے مرض الوفات یعنی وفات سے کچھ پہلے بیماری کی حالت میں اپنے بیٹوں کو کہا کہ تم نے میرے بھائیوں سے اس رقم کا مطالبہ نہیں کرنا جو میں نے ان سے قرض لینا ہے۔۔۔ یہ کہنے کے کچھ دیر بعد وہ شخص فوت ہوگیا ۔۔۔ اب بیٹوں کیلئے کیا حکم ہے؟ آیا وہ چچاوں سے اس رقم کا مطالبہ کرسکتے ہیں یا نہیں؟ بينوا فتوجروا
جواب
اگر واقعۃً مذکورہ شخص نے مرض الوفات میں اپنے بیٹوں سے خط کشیدہ بات کہی تھی تو ایسی صورت میں یہ وصیت ہے اور ترکہ کے ایک تہائی سے پوری کی جائے گی، اور زائد رقم ورثاء لینا چاہیں تو مرحوم کے بھائیوں کے ذمہ شرعاً لازم ہے کہ وہ زائد رقم ادا کریں۔۔۔ البتہ اگر تمام ورثاء بالغ ہوں اور اپنی خوشی سے ان کو مکمل قرض معاف کردیں تو اس کی بھی اجازت ہے۔ لما في شرح المجلة لخالد الأتاسيؒ: لو کان مکان الوارث اجنبي فاقراره بقبض دينه صحيح من كل ماله، واما ابراه و هبته دينا و عينا فيصحان من ثلث ماله إذ ليس للمريض أن يتبرع بأكثر من الثلث (الكتاب الثالث عشر في الإقرار، الباب الثالث في بيان أحكام الإقرار، 4/641 رقم المادة:1600 ط: رشيدية) فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض