مرض الوفات میں قرض معاف کرنے کی وصیت — کیا ورثاء پورا قرض وصول کرسکتے ہیں؟
سوال
ایک شخص نے مرض الوفات یعنی وفات سے کچھ پہلے بیماری کی حالت میں اپنے بیٹوں کو کہا کہ تم نے میرے بھائیوں سے اس رقم کا مطالبہ نہیں کرنا جو میں نے ان سے قرض لینا ہے۔۔۔ یہ کہنے کے کچھ دیر بعد وہ شخص فوت ہوگیا ۔۔۔ اب بیٹوں کیلئے کیا حکم ہے؟ آیا وہ چچاوں سے اس رقم کا مطالبہ کرسکتے ہیں یا نہیں؟ بينوا فتوجروا
جواب
اگر واقعۃً مذکورہ شخص نے مرض الوفات میں اپنے بیٹوں سے خط کشیدہ بات کہی تھی تو ایسی صورت میں یہ وصیت ہے اور ترکہ کے ایک تہائی سے پوری کی جائے گی، اور زائد رقم ورثاء لینا چاہیں تو مرحوم کے بھائیوں کے ذمہ شرعاً لازم ہے کہ وہ زائد رقم ادا کریں۔۔۔ البتہ اگر تمام ورثاء بالغ ہوں اور اپنی خوشی سے ان کو مکمل قرض معاف کردیں تو اس کی بھی اجازت ہے۔
لما في شرح المجلة لخالد الأتاسيؒ:
لو کان مکان الوارث اجنبي فاقراره بقبض دينه صحيح من كل ماله، واما ابراه و هبته دينا و عينا فيصحان من ثلث ماله إذ ليس للمريض أن يتبرع بأكثر من الثلث
(الكتاب الثالث عشر في الإقرار، الباب الثالث في بيان أحكام الإقرار، 4/641 رقم المادة:1600 ط: رشيدية)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض