فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

زندگی میں فوت شدہ بیٹے کی اولاد کا دادا کی وراثت میں حق پوتوں کو زکوٰۃ دینے کا حکم

فتویٰ نمبر 223202610139 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

زندگی میں فوت شدہ بیٹے کی اولاد کا دادا کی وراثت میں حق پوتوں کو زکوٰۃ دینے کا حکم

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ 1۔ میرا ایک بیٹا فوت ہوچکا ہے، جو صاحب اولادہے، اب میرے مرنے کے بعد میری وراثت میں اس کی اولاد شرعاً حقدار ہوگی؟ جبکہ میری دیگر بیٹے بیٹیاں موجود ہیں۔
جواب
1۔ والد کی زندگی میں اگر کوئی اولاد فوت ہوجائے جبکہ اس کے دیگر بہن بھائی موجود ہوں تو ایسی صورت میں زندگی میں وفات پانے والے کی اولاد ،دادا کے ترکہ میں وراثت کی شرعاً حقدار نہ ہوگی۔ لما في المبسوط للسرخسي: لأن بقاء الوارث بعد موت المورث شرط لوراثته عنه فإن الوراثة خلافة، والحي يخلف الميت، فأما الميت فلا يخلف الميت (کتاب الفرائض، 11 / 43 ط: دارالمعرفة) ولما في رد المحتار: (قوله إنما يكون بعد الموت) لأن كونهم ورثة لا يتحقق إلا بعد موت المورث (الرد مع الدر، کتاب الفرائض، 6 / 687 ط: دارالفكر) فقط واللہ اعلم
حوالہ: زکات